جنّت
ڈر. رنجن زیدی
https://kathaanantah.blogspot.com/2023/10/urdu-afsanh-jannat-by-dr- ranjan-zaidi.html
جنّت کےسامنے ویڈیو آن تھا، سلمان دیر سے جنّت کو یقین دلا نے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسکے والد غلط آدمی نہیں ہیں- نہ ہی وہ خودغلط لوگوں کو پسند کرتا ہے- وہ درد سے بھری آواز میں اپنے جذبات بیان کرنے کی کوششش کر رہا تھا "میری حالت اس بڑے مشہور شاعرامیر مہدی کے اس شعرجیسی ھوگی ہے جس میں وہ اپنا درد بیاں کرتا ہے کہ
'مین وہ آنسو ہوں جو پلکوں کی اٹھاکر چلمن
کبھی چھانا نہیں، چھلکا نہیں، ٹپکا بھی نہیں
(امیر مہدی)
"تم جس لڑکی کی بات کر رہی ہو وہ......سلمان بدی ہی کرب کے ساتھ بتا رہا تھا،"وہ حماس میں اسرایل کے ایک حملے کی وجہ سے زندہ درگور ہو گی- جب یہ حادثہ ہوا تھا، تب وہ اپنے بیماراور زخمی فلسطینی باپ کودیکھنے کی غرض سے بمشکل وہاں کے ایک بڑے مخدوش نرسنگ ہوم میں گئی ہوئی تھی- مخدوش عمارت پر بھی اسرایلی بموں سے حملہ کیا گیا اورپھر وہاں چشم زدن میں سب کچھ ختم ہو گیا- اوس جوان کم سن ماں کے ساتھ اسکی بیٹی ہاجرہ بھی گی ہویی تھی-اب نہ وہ ہاجرہ ہے اور نہ ہی اسکی ماں اور نہ ہی اوسکے والد-جو کبھی میرے باس ہوا کرتے تھے- سوچو جنّت، میں کن حالات میں یہاں اس وقت لبنان میں ہوں جہاں کچھ دیرقبل اسراییل کا مزاییل آکر گرا ہے اور فایرنگ کےدوران بھی میں سفر کر رہا ہون -"
"سوری اسلم، ویری سوری "جنّت نےبہت دھیمی آواز میں کہا،"میں خود بہت پریشان ہوں- میرے ابّو خودبہت بڑےذہنی خلفشار سے گزررہے ہیں، ابھی بھی حالتے غیر میں ہیں-انھیں تکلیف پہنچانے کا ہم میں سے کسی کا نہیں تھا- جانے انجانے میں جو کچھ ہوا وہ غیر یقینی تھا-کچھ میری غلطفہمی اور کچھ حالات کی- نتیجتن، میں، مممی کوبھی سنبھال رہی ہوں، سعدیہ کو بھی دیکھ رہی ہوں- جو خود حالات سے لڈ رہی ہے-اس وقت سعدیہ ابّو کی کوئی دوا لینے کیمسٹکی شاپ تک گی ہے- -ابواوراممی کو دیکھ کرتودل بیٹھا جا رہا ہے----ویڈیو آف کر رہی ہوں- کوئی آ رہا ہے، شاید اممی اور بلقیس چچی ادھر ہی آ رہی ہیں- او کے...."
پھولتی سانسوں کے بیچ نسیم انصاری نے صابرہ بی کے ہاتھ پکڑکر بڑی مشکل سے کہا،"سینے میں پتہ نہیں .....چبھن کیوں ہو رہی ہے؟تولیہ سے میرا پسینہ پوچھ دو- شاید اب وقت آخر ہے...."
"یہ آپکو اچانک کیا ہو گیا ہے؟" صابرہ نے اپنا منہ چھپاتے ہوے کہا اور سبکنے لگین-
" تمہیں یاد ہوگا، "ہمّت جٹاتے ہوے نسیم انصاری نے کہا،" جنّت کو ریٹن کوالیفای کرنے دو، میں نے پہلے بھی کہا تھا- لیکن بھای دلاور نے گھر میں سیاسی لوگوں کے بیچ پارٹی ارینج کر سب طرف ہنگامہ کر دیا- مجھے یہ سب چکاچوندھ پسند نہیں ہے- پتہ نہیں کیوں بھائ دلاور میری زندگی کوراس نہیں اتے رہے ہیں- -اب تو مین نے سب الله پر چھوڈ دیا ہے- جو وہ چاہیگا، ھوجاےگا- مین تو ایک معمولی سا چھوٹا موٹا بیاپاری رہا ہوں، سیاست سے میرا کیا کام؟ میڈم شبھرا نے کچھ نہیں تو میرے ہی گھر میں آگ لگا دی-انھیں بھی ہر وقت کوسنے سے کیا ملیگا؟ مین نے کتنا کچھ سوچا، دماغ خراب کیا اور دیکھلو بستر پکڈ لیا - مکّھی کا ایک ڈنک ساری مککّہیونوں کی موت کا سبب تو نہیں بنتا نا!- میری نظرمیں چیٹیوں کو گہنے پہنانا ممکن نہیں ہے-جنّت کو اپنی زندگی جینے دو صابرہ! وہ شادی نہیں کرنا چاہتی ہے تو مت کرو! اسے پڑھنے لکھنے دو....اف، مین اب تھکن محسوس کر رہا ہوں- کچھ دیرتک سونا چاہتا ہوں. بولنے سے میری سانس پھول رہی ہے-ڈاکٹر کو شک ہے کہ مجھے کویڈ ہو گیا ہے سعدیہ سے کہ دو، وہ بھی کووڈ سے بچے - گھر جاکر آرام کر لے، دو راتوں سےوہ سوی نہیں ہے-"
صابرہ بی کے آنسو تھم نہیں رہے تھے- انکے بھیتر ایک گہری اور گاڑھی خاموشی بیٹھ گیی تھی- نسیم انصاری سو گئے تھے لیکن ڈاکٹر نے معانہ کر کہا، گلوکوس دینی ہوگی-کمزوری زیادہ ہے- لیکن بیہوشی اب رفتہ رفتہ بہڈھتی جا رہی تھی-
نسیم انصاری کا چھوٹا موٹا کاروبار تھا، کی دنوں سے وہ بھی ٹھپ پڑا ہوا ہے-دلاور کی دوستی نہ پہلے راس آئی تھی اور نہ ہی اب...-انکے روزگارمیں تو ایمانداری تھی- وہ سستی اور بییمانی برداشت نہیں کر سکتے تھے- دلاورنے انھین ایک طرح سے توڈ کر رکھ دیا ہے- شبھرہ میڈم نے سارے شہر میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رکھا تھا - جس طرح نسیم انصاری کو لوگون کے بیچ شرمندہ ہونا پڑا تھا، وہ صدمہ کیا معمولی تھا؟- جنّت بھی تو صدمے میں رہی، لیکن اسکا مشن دوسرا تھا- وہ اپنی بلقیس چچچی سے خود کو دور نہیں رکھ پا رہی تھی! بلقیص کے گھٹنون پر اپنا چہرہ رکھکر اسنے نرسنگ ہوم کے کمپاؤنڈ میں پوچھا،"چچچی، یہ کیسی خوشی ہے کہ گدگداتی بھی ہے اور رلاتی بھی ہے-ابّو کا تو بخارہی نہیں اتر رہا ہے- ایسے میں ہنسوں کہ روں؟ کہیں کووڈ پھر لوٹ کرتو نہیں آ گیا ہے- ماں نے بھی چپپی سادھ لی ہے- میں کیا کروں چچچی؟'
"بچچے،-غریبی قوم کے لئے الله کی بددعا ہے-" بلقیس نے کہا،"اسی بددعا کے ساتھ ہماری اپنی زندگی، فوٹپاتہہ اور جھوپڑ پٹتی میں گزری- تقدیرکی روشنی کے نیچے اندھیرے میں مین اورتمہارے دلاور چا اپنے بچچے کے ساتھ راتیں گزارنے لگے- پہر وقت بدلا- الله نے علم دیا اور ایک شاندار مستقبل بھی- انھیں دنون بنارس سے سا ڑیوں کا کاروبار شروع کیا اورپھر تم لوگ مل گئے-بیٹے نے کناڈہ جیسے ملک میں پڑھائی پوری کی- گرہستھی کے دوران ہی میں نے گر سیکھا کہ کتّے اور بلّی جب لڈین توکنارے ھو جاو-اس میں جان جانے کا خطرہ اورجوکھم کم ہو جاتا ہے-"
دلاورانصاری جیل سے سیدھے نرسنگھ ہوم پہنچے اور نسیم کو بتایا کہ ضمانت پر آ گیا ہوں- اپنی زندگی ہے ہی کچھ ایسی- تم لوگ پولیس، کورٹ-کچہری، قانون اور جیل سے جلدی ڈر جاتے ہو! اسی لئے جذبات میں بہ جاتے ہو جاتے ہیں- سلمان انے والا ہے، میری کچھ دیر پہلے ہی بات ہوئی ہے- گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے-لیکن یار، تم چپ کیوں ہو، کچھ بولو! ؟ کچھ کہو...."
دلاور کی تیوریوں پریکایک بل پڑنے لگے، انہوں نے نسیم انصاری کو گلے سے لگایا تو انکے ہاتھ-پانون پھول گئے-" نسیم میاں---کیسے دیکھ رہے ہو؟ " انہوں نے نسیم کے گال تھپتھپاے لیکن لمحوں سے خطا ہوچکی تھی- اب صدیوں کو سزہ بھگتنی تھی-
بھائی دلاور نے نسیم کی آنکھوں کو ڈھک دیا- بادشاہ غلطیاں کرتے تھے لیکن، نسلیں مذاق اڑاکر قومیں برباد کردیا کرتے تھے---اب ہمیں بھی کچھ ایسی ہی سزا بھگتنی ہوگی- ، تمہیں اتنی جلدی نہیں جانا چاہیے تھا-نسیم! اٹھو یار..." دلاور دھہاڈ مارکروہیں بیٹھ گئے اوررونے پیٹنے کی آوازیں گونجنے لگیں-
نسیم اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے- موت کے گھر مین امیدیں سو جاتی ہیں- سسکیاں، سبکیاں، نالے اور رودن!
جنّت اپنے کمرہ میں پہونچکر خود میں سمٹکرسکوڈکر اپنےآپ میں اندر ہی اندر دھنسی جا رہی تھی-'ہائے الله، کیا ہونے والا ہے- ایک ایک پل کتنا قیمتی ہے اور یہ سلمان------؟ جنّت نے آنچل سے اپنا سر پھر سے ڈھک لیا-" اسے لگا جیسے وہ بلقیس کے سوالوں کے جواب دے رہی ہو، "جی چچی، مین گولڈمیڈلسٹ رہی ہوں -سعدیہ بھی بہت پڑھتی لکھتی ہے، زہین ہے..میں آئی.اے.ایس. کی تیاری کر رہی ہوں. اس بار امید بہت ہے...دیکھئے آپ لوگوں کی دعا یں رہیں تو........."
"ضرور کامیاب ہوگی بیٹی... تجھپر الله کی مہر ہو-صابرہ اور جنّت کو عورتیں گھیرے میں لئے ہوے تھیں-
*****
بلقیس خود کو بہت کمزور پانے لگی تھیں- 'الله، یہ مجھے کیا ہو گیا ہے؟ جنّت نے مجھ پر کون سا جادو کر دیا ہے-کیا میں اسکے بغیر اب رہ پاونگی؟ سلمان پھر نہیں آیا-لیکن ایک فون ضرور آیا -"مین زینب بول رہی ہوں، کنڈہ سے-" لیکن اس غمزدہ ماحول میں بھی اچانک بھاڈ سےبند دروازہ کھول اندر آکرہولہ خفتہ ماریعہ گرتے گرتے بچی، اور صابرہ کے گلے میں جھول گی-وہ بری طرح سے ہانپھ رہی تھی-"اممی،ٹیوی کھولو....دیکھ...."
"ارے مری، ہوا کیا ہے؟"
"سلمان آ گئے کیا؟" کان میں بلقیس نے پھسپھساتے ہوے پوچھا تو اسنے کہا، "اسے نہیں چچی، ٹیوی میں دیکھئے....کرشمہ ...باجی نے ٹاپ رینکنگ میں آئ اے ا یس کلیر کر لیا ہے-واؤ..... "
ٹیوی پر انٹرویو میں جنّت جواب دے رہی تھی،"مین اپنے مرحوم ابّو کی دوا ہوں-یہ انھیں کی خواہش تھی---آج وہ جنّت میں اس خبر پر بہت خوش ہو رہے ہونگے-اس کامیابی کا سہارہ میری ماں صابرہ انصاری کو جاتا ہے- میری چچی بلقیس انصاری کو بھی جاتا ہے، جنہیں یقین تھا کی مین اپنے مقصد میں کامیاب ہونگی-ان سب میں میری چھوٹی بہن سعدیہ کا کوئی توڈ نہیں ہے-وہ میری جان اورجہان ہے...آج ہم دونوں بہنیں اپنے ابّو کو بہت مس کرینگے....کیونکہ بیٹوں کوعلم حاصل کرنے کی تبلیغ میرے ابّو کرتے تھے- یہ کامیابی میرے ابّو اور اممی کے نام!"
" ہاے میری ماں!" سعادیہ نے ماحول میں اپنی خوشی بھی شامل کر دی،"ہے میری ماں! کتنی سینٹی ہو گیئں-" دپٹتے کے پللو سے صابرہ آنسو پونچھتے پونچھتے ہنس پڑیں- اور جب سعدیہ نے چھیڑچھاڑکی تو وہ بھربھراکر رو پڑیں-سعدیہ نے ماں سے لپٹکر کہا،"ابّو کے نہ رہنے پر اب آپ کبھی روےنگی نہیں- اگر آپ روئیں تو...تو.---میں شادی کر لونگی-" اس پر غمگین ماحول میں بھی سب عورتیں اور لڑکیاں ہنس پڑیں-
جنّت ابھی تک گھر نہیں لوٹی تھی- اسکا سبکو بیچینی سے انتظار تھا-- بہت سے صحافی تھے، محللے کے لوگ تھے-شہر کے ایلیٹ یوتھ تھے- اسی میں ایک پہنے شبھرا مالویہ کا تھا-"سعدیہ بیٹا، جنّت نے ہمارے شہر کا نام روشن کیا ہے، مبارک- تمہارے ابّو کے انتقال کی خبر سنکر بہت تکلیف ہی - جنّت کی شادی کا کیا ہوا؟ سلمان......؟
" میم، جننت باجی ابھی گھر پر نہیں ہے، انکے آتے ہی اپ سے فون کراونگی-"
بدھاییاں دینے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی.سعدیہ پی آ رمیں اگے آگے تھی اور لوگ اسکے پیچھے پیچھے- شہر بھر میں خوشیاں چھلکنے لگی تھیں- تبھی جنّت آ گی- لیکن بیحد مصروف-
******
رات گئے ایک فون آیا-"ہیلو!" جنّت نے کوئی جواب نہیں دیا-پھر فون آیا-" "ہیلو!" لیکن گہری خاموشی-جنّت نے اس نامعلوم فون پر انگلیاں ہلائیں،"فرمائے!"
کوئی جواب نہیں!
"مبارک!"
تھینکیو!"
کچھ انتظار کے بعد فون ڈسکونیفکٹ ہو گیا-
جنّت کچھ پلوں تک موبائل کو دیکھتے رہنے کے بعد اپنی ماں کے کمرے میں آ گیی-اس وقت وہ اپنی ماں سے لپٹکرسکوں سے سونا چاہتی تھی-لیکن اسکی آنکھوں سے نید دور جا چکی تھی اور ابّو یعنی نسیم انصاری آنکھوں میں ٹہلتے نظرآ نے لگے تھے-اپنے ابّو کو دیکھتے دیکھتے اسکی آنکھیں بھر آییں اور وہ سبکنے لگی!
صابرہ نے جنّت کی طرف کروٹ لیکربیٹی کو چوما،"سو جاو بچچے! آنکہہ سے ٹپکا آنسولوٹکر گھر نہیں آتا ہے-سعدیہ بھی سو چکی ہے، تم بھی سو جاو !"
"اور آپ ....اپ کب سوینگین
"تم سو جاو بیٹا - ابھی ماں نہیں بنی ہو- جوان بیٹی جب ماں کے ساتھ لیتی ہے تو ماؤں کی راتیں جاگنے لگ جاتی ہیں-"جنّت ماں کے سینے سے لپٹکر سبکتے سبکتے سوجاتی ہے-
---------------
اندراپرم، غازی آباد، اتر پردش (بھارت)
*************



