शुक्रवार, 5 जनवरी 2024
افسانہ؛ خالیپن کے بیچ / ڈاکٹر رنجن زیدی
افسانہ؛ خالیپن کے بیچ / ڈاکٹر رنجن زیدی
آشیانہ گرینس، اندراپرم، غازی آباد، اتر پردیش، بھارت 201014
موبایل؛ 9354597215
---------------*٠*--------------
منسورنگر قدیم لکھنؤ شہر کا ایک موہللہ- اسکے ایک ٹیپائنٹ پرپرانے وقتوں کے محلات کے طاق کی طرح ایک بروٹھےکو کہ جانے کب بیٹھک میں تبدیل کر دیا گیا تھا-چھٹانی-چا اسی بیٹھک میں اپنے شورفا دوستوں کے ساتھ نہ صرف مختلف موضوعات پر گفتت و شنید کیا کرتے تھے بلکہ ان سبکے بیچ مذہب، سیاست اور حالت حاضرہ پر تبصرہ بھی کیا کرتے تھے-ان میں، مجالس، شیعہ اور شیعت، شیعہ سننی فسادات اور مخطلف مسایل پرموضوے گفتگو جاری رہا کرتی تھی- چھٹنی چا اس نامعلوم انجمن کے میر امین تھے- تھے لیکن جو شھراے آفاقیت نواب مرزا عاشق عرف نواب قاری صاحب کوملنی تھی، وہ چھٹانی چا کو بھلا مل ہی کیسے سکتی تھی-
ای پائنٹ سے ایک سڈک چڑھائی کے ساتھ حضرت ابباس کی درگاہ جاتی ہے اور باین طرف شہادت گنج،اسی راستے پر ایک طرف کاظمین اور دوسری طرف سڈک سے لگی پرانی لکہوریا اینٹوں کی ایک پرانی حویلی کا کھنڈھرہوا کرتا تھا- اب یہاں کھاتے-پیتے خوشحال لوگوں کے مکان آباد ہو چکے ہیں- یہ محلّ کاظمین کاظمین کہلاتا ہے-اسکی تاریخ الگ سے بیان کی کی جا سکتی ہے-
تو، لکہوریا اینٹوں کی پرانی حویلی کے کھنڈھرمیں جو شخص رہا کرا تھا اسکی کہانی کو اسکے پڑوسی بھی نہیں جانتے تھے تھے لیکن نواب مرزا عاشق عرف نواب قاری صاحب کو اکثر اس طرف اس علاقے کے لوگوں نے نواب قاری کو اکثر آتے جاتے دیکھا تھا-یقینن اس حویلی سے نواب قاری صاحب کا کوئی دیرینہ رشتہ رہا ہوگا-لوگ بس اتنا جانتے تھے کہ ہر وقت کھر- پتوار کے جنگل سے ایک دروازہ چوبیسو گھنٹےروضہ کاظمین کو ٹاٹ کے پردے
کے بھیتر سے جھانکا کرتا تھا- لیکن محللے لے لوگ اس پردے کو کبھی اٹھانے کی جسارت نہیں کرتا تھا کیونکی خالی گھر جنّا توں کا والی کہاوت یہاں صادر ہوتی رہتی تھی- کچھ قبزیہ گروہ زمین ہتھیانے کی جب جب کوشش کرتے، حضرت ابباس نیزہ اور تلواریں دکھاکر انھیں بھگا دیتے تھے- ہر کوئی ڈرتا رہتا تھا-
قاری صاحب کا بھی پھر آنا جانا بند ہو گیا-حویلی کے ارد گرد جو غصّا ل ذما نہ قدیم سے
اس محللے میں رہتے آ رہے تھے، سنتے ہیں انہوں نے قاری صاحب کو کفنایا دفنایا تھا-کیونکہ انھیہن تقریبن ہر کوئی جانتا تھا-لیکن اسکا علم کسی کو نہیں تھا کہ وہ کہاں کے نواب تھے، گزارے کا نساب کئے چلتا تھا، انکی تاریخی حیثیت کیا تھی، بس اتنا سبکو پتہ تھا کہ وہ الصوبح یتیم خانۂ کی مسجد جاتے، نماز پڑھتے اور پھرگول دروازہ پر کر ٹہلتے ہوےگولہ کنج تک جا پہنوچتے-لوٹتے تو چاول والی گلی ہوکر امراؤ جان کے مکان میں جاکر غایب ہو جاتے- امراؤ جان کی بہانجی نادیہ سے بتاتے ہیں انھیں روحانی عشق تھا اورادا سے وہ شعری اصلاح لیا کرتے تھے-کیونکہ امراؤ جان اپنے ادبی حلقے احباب میں بحیثیت شاعیرہ وہ بہت مقبول تھیں-اتنی جانکاری چھٹانی چا کی بیٹھکوں میں لوگوں کے ذراے سے پتہ چلی تھی -
جسمانی اعتبار سے قاری صاحب بہت کمزور تھے- سر پر داڑھی والی دپللی ٹوپی ہوا کرتی تھی -داڑھی کا مطلب ہے سر گنجہ تھا سپید بال گوددی پر جھالر کی طرح جھولتے رہتے تھے- آنکھوں پرموٹے شیشوں کا باریک تاروں کا چشمہ چڑہا رہتا تھا-بدن پر لکھنوی کرتا پاجامہ، ہاتھ میں بید کی چڑھی، پیروں میں ناگرہ جوتا، چال میں نر ہنرن کی سی مستی، ہوٹھوں پر زعفرانی سرخی اور سانسوں سے قوام کی مہک ، 'الله نظرے بد سے مہفوظ رکھے
نوں قاری کو-
کیا شاہانہ انداز تھا انکا- جب وہ پان کی گلوری داڑھ میں دباتے تھے تو اس وقت مدداہ 'واہ واہ کر اٹھتے تھے- انکی کڑھی ہوئ بگچی میں ایک ڈبیا رہا کرتی تھی- ڈبیا میں ایک بٹوہ ، بٹوے میں لونگ، قوام کی شیشی، اس میں احمد حسین دلدار حسین تمباکو والے کی خوشبودار کھانے کی تممباکو رہا کرتی تھی-
بہت سے سلاموں کو منظوری دیتے ہوے قاری صاحب منصور نگر کی ٹی پوائنٹپر واقہ چہٹانی چا کے جنرل سٹور کے باہرپڑی کرسی پروہ آکر پسر جاتے- وہی انکی سبکے بڑی بیٹھک ہوا کرتی تھی- وہیں صاحب مصاحب اکٹها ہوتے،اور قاری صاحب اس محفل کی شمّہ بن جاتے تھے-
"اماں قاری صاحب، "" کوئی انھیں تیلی دکھاتا، کوئی سلگآ دیتا، کوئی بھڑکا دیتا، اس عمر میں جب آپ پر عورتیں اپنی نظر ڈالے بنا آ گے نہی بڑہتیں ہیں، تب اس زمانے میں کیا ہوتا ہوگا، جب آپ ماشاللہ جوان رہے ہونگے؟"
"امان چھوڈے اس زمانے کی باتیں،...".قاری صاحب جیسےیکدم زخمی ہو گئے ہون- " قاری صاحب داڑھ میں ایک گلوری دباکرعجیب سی آواز میں بولے،" وہ زمانہ اور تھا شہزادہ، چوک بجازہ کی توایف گلے گلزار جانے بہار، جان دیتی تھی مجھ پر-جب سے اسنے مجھکو دیکھا تھا، میری دیوانی ہو گی تھی- بڑے بڑے نوابوں اور ریسوں کے لئے اسنے دروازے بند کر دے تھے- کسکے لئے؟ میرے لئے-سب پاگل تھیں میرے لئے- جب بھی اسکے کوٹھے کے نیچے سے گزرتے تھے میاں، وہ چھججاۓ پر آ کھڈی ہوتی اور لگاتار ہمارے لئے کھڑی رہتی- لکھ کیا مجال شہزادے جو ہم اس پراپنی نظر ڈالتے-" اور وہ ماضی میں کہیں ڈوب جاتے- "ایک دن کیا ہوا شہزادے....." موجودہ لوگوں کی سانسیں اٹک کر رہ گئیں-"
"ہاے الله، آپکی سانسیں چلتی رہیں؟" کسی نے اپنی سانسیں روککر سوال کیا.
"ایک دن کیا ہوا، ہم اسی طوایف کے تیمنزلہ کوٹھے سے گزر رہے تھے،کہ وہ خبر پکڑ چھججے پر آ گی- کیا مجال کہ ہم نگاہ اٹھاکر اس پر ڈالیں-لاحول ولا قووت، میاں، مردانگی بھی کوئی چیز ہوتی ہے کہ نہیں؟"
"پھر کیا ہوا قاری صاحب؟" سبکی سانسیں پھر اٹک گئیں-
"چہججا ٹوٹ کر گر پڑا؟"
"اپ سب لوگ بیوقوف، نادہندہ، اور نالایق ہیں- عشق کرنا آتا ہی نہیں ہے آپ لوگوں کو! یہ عشق کا معاملہ تھا- تلوے مہر نے جھانک کر ہمیں دیکھا، عشق کی دیوانگی میں اسنے آواز دی، نواب قاری صاحب،،،،اور، اور دیکھئے! اسنے چھلانگ لگا دی- پھر...پھر..."
"پھر کیا ہوا قاری صاحب؟"
"کیا ہونا تھا، اسنے چھلانگ لگا دی، بس...."
"تو کیا مر گئی وہ....ہاے الله، کتنے ظالم ہین آپ! آسمان آپ پرنہیں گرا؟ آپ تو ابھی بھی زندہ ہیں؟!؟"
"اب ہم آپکو کیا بتایں نصیرمیان...." کرب سے کراہتے ہوے قاری صاحب نے کہا کہ "یہ عشق نہیں آسان، بس اتنا سمجھ لیجے، اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے- والی مثل مصدق بن گی. ہمیں جب یقین آیا کہ حسن کی شہزادی نے تیسری منزل سے ہما رے عشق میں چھلانگ لگا دی ہے، تب ہم نے بھی اپنی باہیں پھیلا دین اور اپنی گلے گلزار، جانے بہار کو لپک کر باہوں میں گپچ لیا-"
" تو وہ بچ گی! آپ تو کمال کے ہیں قاری صاحب!" ایک ساتھ سبکے حوصلے پست ہو گئے لیکن نواب قاری صاحب ....؟"
"اب ہم آپکو کیا بتایں میاں.." قاری صاحب نے صفائی دینے کے ارادے سے کہا،"دس
سیرخالص کچچا دودہ ایک سانس میں پی جایا کرتا تھا، اسے پہلے ٢٠ انڈوں کا آملیٹ، آٹھ شیرملوں کے ساتھ لیتا تھا-شیرمالیں بھی اصلی گھی میں نہیں خالص مکّھن میں تیار کی جاتی تھیں-"
"ہم لوگ تو سن سنکر ہی بیہوش ہونے لگے ہیں-" کسی مسخرے نے طنز کیا-
"ہاں! آپ لوگوں کے لئے سچمچ یہ بڑی حیراںکن بات ہوگی-لیکن ہم اتنا کچھ کھانے-پینے کے باوجود خالی وقتوں میں بادام اور کشمش چباتے رہتے تھے- ہمارا پان اگر ان دنو آپ لوگ دیکھتے آنکہ کے دیدے پھیل جاتے، قوام، کشمیر کا زعفران اور سونے کا سفوف یعانی چورن، قیمتی مسالے اور ہودہود پرندے کا مغز سکھاکر اسمیں ڈالا جاتا تھا- اسکی پیک حاصل کرنے کے لئے ہمارے نوکروں میں ہوڈکگی رہتی تھی-قسم خدا کی پان کی لالی ہمارے لبوں پر ایسے پھوٹتی تھی جیسے ہوٹھوں پر دہکتے ہوے انگارے پھیلا دے گئے ہوں- اور راز کی بات یہ ہے میاں....چوک بجازے کی رققاسایں ہمارے ہوٹھوں کی سرخی دیکھکر ہی ہم پر فریفتہ ہوتی رہتی تھیں-"
" بس، چاول والی گلی کی....؟" کسی نے چٹکی لینے کی غرض سے جملہ اچھالا-
"ارے نہیں میاں!" نواب قاری نے ایسے پان کی گلوری کو نچوڈا مانو مرغی حلال کر دی گی ہو-"پورا چوک بجا زا پاگل تھا ہمیں لیکر-جب ہم ادھر سے گزرتے تو چوک کی رققاسایں چھججوں پر نکل آیا کرتی تھیں اور سینہ پیٹنے لگتی تھیں-ہے نواب قاری! ہمارے کوٹھے پر کیوں نہیں آتے؟ کسی سے شادی ہی کر لیں تکہ امید کا دامن ہی چھوٹ جائے- "
"یعانی اپنے زندگی بھر شادی ہی نہیں کی ؟"
"لاحول ولا قوت، شادی بھی کوئی کرنے کی چیز ہے! شادی سے ایک بات یاد ائی، ایک بار مرزا اسد علی ناگوری کی شادی میں ہم مہمانے خاص کی حیثیت سے سلطانپور گئے ہوے تھے- وہیں ہمیں دیکھنے والیوں کی بھیڈ لگ گی- مرزا اسد علی کے نکاح کے وقت اندر زنانخنے میں کچھ شور سا سنای دیا-سب لوگ پریشان ہو گئے- معلوم ہوا کہ مرزا کی جس لڑکی سے شادی ہونے جا رہی تھی- اسنے نقاب کی چلمن سے کہیں ہمیں دیکھ لیا، بس، دیوانی ہو گی- اب اسکی ضد کہ شادی اگر ہوگی تو ہمسے ہی ہوگی، ورنہ نہیں-اسسے ہم پریشان ہو گئے- چنانچیہ حل یہ نکالا کہ ہم موحترمہ کوجاکر سمجھا یںگے کہ ایسی ضد نہیں کی جانی چاہیے جسسے بدنامی ہو-الله الله کر ہمارے سمجھا نے کا اثر ہوا اور وہ آہ بھرکر نکاح کے لئے راضی ہو گی-"اب آپنے کہا ہے تو میں کیسے انکار کروں-"
قاری صاحب نے بٹوے سے پان کی ڈبیا نکالی، داڑھ میں دباکر ابھی اٹھنے کی کوشش میں چھڈی اٹھائی ہی تھی کہ چھٹا نی چا نے چھڈی پکڑکر قاری صاحب کو پھر سے بیٹھا دیا-صباح کا وقت تھا، چاے کی کیتلی آ گی تھی، چھٹا نی چا نے اپنے ہاتھ سے سلیقے کے ساتھ قاری صاحب کونفیس انداز میں ٹی کوزی سے چاۓ پیش کی اور اپنی اور اپنے سٹور سے بسکٹ بھی پیش کے- اسکے بعد جو بھی وہاں موجود تھا ، سبھی لوگ اس چاۓ کی التجہ میں شامل ہوے-
مسلم دسترخانوں کے رواج میں ایک رواج یہ بھی ہوتا ہے کہ سبھی اپنے حساب سے گفت گوکریں تکیہ دسترخوان کا ادب براے ادب نہ رہے-مزاح میں چھٹا نی چا نے پوچھا،"کھا نے پینے میں آپکو صرف دودھ ہی پسند رہا ہے یا....ربڑی وغیرہ میں بھی کچھ دسترس.....؟"
"چھٹا نی میاں، ہمارا بچپن سے مزاج بہت نازک رہا ہے ...." نواب صاحب نے کہا، "ملائی بہت بار کھانے کی کوشش کی مگر خدا جھوٹھ نہ بلواے، پتہ نہیں کیوں، ہمارا حلق چھلنے لگ جاتا تھا- ویسے ہی جیسے راجہ ایٹونجہ کے محل میں ایک بار دعوت میں گیا تو وہاں فرشی قالینوں پر چلنا پڑا- اب ہم کیاکہتے، بیحد مایوبکن بات ہے،آپ سب حیران ہوگے لیکن یہی سچ ہےمیاں کہ ہمارے پیروں میں چھالے تک پڈ گئے تھے-"
قاری صاحب اپنے انہیں طرح کے قصّوں سے حلقے احباب میں مشہور تھے- وہ چھٹانی چا کے جنرل اسٹور سے نکلتے توحسین پتنگ والے کی دکان پر پہنچ جاتے- وہاں لڑکوں کا جماوڈا رہتا- لڑکے لوگ انسے قصّے سننے کے چککر میں میاں علی حسین پتنگولے کی دکان میں جما ہو جاتے- قاری صاحب بچچوں کو قصّے سناتے اور وہ پتنگ کے تانے-بانے نکلنے میں مصروف رہتے- انکی تو دکان ہی چلتی تھی قاری صاحب کے آجانے کے بعد سے-لوگ پتنگ کی تلاش میں آتے اور پوچھتے، قاری صاحب کی یہی بیٹھک ہے؟ اور پھر....؟ شوھرت انکے پیروں میں-
"اب کیا اڑاینگے لوگ پتنگیں!" نواب قاری کہتے،"میان، ہ چیز کو مہنگائی نے کھا لیا ہے- پتنگیں تو ہمارے زمانے مین لوگ اڑایا کرتے تھے- ہماری پتنگ تو اتنی اونچائی کو چھو لیتی تھی کی لوگوں کی آنکیں چندھیا جاتی تھیں اور لگنے لگتا تھا کی آسمان سے فرشتے بھی پتنگ اڑانے کی غرض سے آسمان تک آ پہنچے ہیں- ایک بار تو گومتی کے کنارے پتنگبازی کے چککر مین ہمنے پتنگ کو اتنی ڈھیل دی کہ وہ میلوں کا راستہ طے کرمالیہآباد کے خا ن بہادروں کی حویلیوں تک جا پہنچی- اور جب ہم نے ڈور کھینچی اور چرخی پر چڑھائی تو قسم بببو رانی کی، پتنگ کے ساتھ اپنے مشہور شاعربھای جوش ملیحہ آبادی کا خط موصول ہو گیا- کھول کر پڑھا تو قسم جناب عبّاس کی، آنکھوں کو یقین نہیں ہوا لکھا تھا، 'اب ہم کیا جواب دیں، بغیر دیکھے ہم سمجھ گئے کہ ہو نہ ہو، یہ پتنگ سواے نواب قاری کے اور کسی کی نہیں ہو سکتی ہے-جو اسے لوٹے، اسکا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ان تک ہمارا سلام ضرور پہنچاے-آخیر مین انہوں نے ایک شعر بھی لکھا تھا، وہ کیا تھا... ارے کمبخت...آ جا، یاد ہی نہیں آ رہا ہے- خیر! مفہوم یہ تھا کہ بھلا اس زمانے مین اتنی لمبی ڈور کا وزن سواے نواب قاری کے دوسرا کون اٹھا سکتا ہے-
بچچے دیدے پھیلاے سنتے رہے-اس بیچ ایک بچچے نے آخرکار پوچھ ہی لیا،'دادا نواب صاحب، اتنی ڈھیر سی ڈور کو خریدنے کے لئے آپکے ابّا نے کتنے پیسے خرچ کے ہونگے؟ آپکو ابّا سے بہت پیسے ملتے تھے؟"
"ہم نواب علی بخش خدا بخش جھنجھنا پور کھنجنا والے کے خاندان کے ہیں میں، بوران مین اشرفیاں بھری رہتی تھیں- ہم نوابوں کو پیسے کی کیا فکر؟ پیسے کا حال تو یہ تھا کہ ہر ماہ ہماری والدہ ہمیں چاندی کے سکّوں سے تلواتی تھیں- " قاری صاحب نے کہا،" میا، فقیروں کی لائیں لگ جاتی تھی اس دن، سبکو اشرفیاں دی جاتی تھیں- وہ زمانہ ہمیں یاد ہے-سونے-چاندی کے برتنوں مین ہم کھانا کھایا کرتے تھے-کشمیر کے چشموں سے پینے کا پانی آتا تھا- چاندی کے مرتبانوں مین ہم ہاتھ دھوتے تھے- بہت پیسا ہوا کرتا تھا ہماری حویلیوں مین- "
"لیکننوں قاری دا،..." ایک بچچے نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا،" ہمارے پتہ جی تو ہمیں کبھی اتنا پیسہ نہیں دیتے ہیں؟ کیا وہ غریب ھیں؟"
"وہ ہماری وراثت کی دولت کا مقابلہ نہیں کر سکتے-وہ شہید ابراہیم خان گاردی کے پوتے تھے جنہونے جنہوںنے مراٹھوں کی فوج کے سپہسالارشو پنڈت بھاؤکی فوج مین اتنا نام اور اتنی دولت کمای کہ تین پیڑھیاں تر گین-آپکے والد کسی گاردی خاندان سے تھوڈے ہی ہونگے. آج کے زمانے مین بہادروں کی کون قدر کرتا ہے؟"
نواب قاری ناظمدداولہ کے بارے مین اتنا اور پتہ چلتا ہے کہ انکے پردادا احمد شاہ عبدالی کے زمانے مین مراٹھا پیشوا باجی را وکی فوج مین توپخانے کے کمانڈینٹ ہوا کرتے تھے-ابراہیم خان گا ردی نے ایک افغانی ہوتے ہوے بھی پانپت کے میدان مین لودیوں کا ڈٹکر مقابلہ کیا اور شو پنڈت کی حمایت مین لڑتے-لڑتے شہید ہو گئے- تاریخ کے حوالے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پیشوا کے اس نمکخوارکو بعد مین عبدالی کے فوجیوں نے حکم شاہی کے تحت نمک سے بھری قبر مین دفنا دیا تھا-
"وہ اپنے ملک کی آزادی کے لئے عبدالی جیسے حاملاور پر قہار بنکر نمودار ہوے..." نواب صاحب بڑے ہی فخریہ انداز مین کہتے..."کیا بتایں میاں، ہمارے لوگوں نے توپخانے سے اتنی آگ برسای کہ حافظ رحمت خان، اور نواب دادیندے خان اور نواب احمد خان بنگش کی فوجیں بھاگ کھڈی ہوئیں اور بھاؤ کے ساتھ وشواس راوکی فوجوں نے دشمن کے دانت کھٹٹے کر دے- "
اسکے بعد کی کہانی سناتے وقت وہ بیحد اداس ہو جاتے اور سنانے لگتے ،"ہمارے پردادا کی بہادری اور انکے فن سے خوش ہوکر لڑائی کے دوران احمد شاہ احمد شاہ عبدالی نے انکو اپنی فوج مین آ جانے کی دعوت دی تھی-لیکن کیا مجال کہ وہ بھاؤ سے غدّاری کرتے- جن دے دی مگر........"
"کیا ہوا قاری صاحب...؟
قاری صاحب ایک دن کاظمین کے بلند دروازے کے بغل مین واقہ میر صاحب کی پرچون کی دکان سے نانپاؤ اور چاے کا پتہ خریدتے ہوے بولند آواز مین چیخ کے ساتھ ہی اچھال پڑے ،" امان میر صاحب! یہ یہ یہ ہمارے نیچے ..."
"کیا ہوا قاری صاحب؟" میر صاحب قاری کو کانپتا دیکھ کر پریشان ہو گئے- کودکر دکان سے نیچے اترے،ارد-گرد دیکھا، نالی مین بھی کچھ نہیں تھا-در بعد قاری صاحب کی کنپکنپاہٹ ختم ہو چکی تھی- تب کہیں جاکرانہوں نے بتایا کہ ایک بڑا سا چوہا انکے نا گرہ جوتے پر سوار ہوگیا تھا-"
دکاندار میر صاحب کو کہنا پڑا، کہ کیسے بہادر ہیں نواب صاحب کہ ایک چوہے سے ڈر گئے-اپ تو بڑے بڑے قلا بین مرتے تھے-"
سنکر قاری صاحب یکایک تن سے گئے- "ہھھہم کب ڈرے تھے؟ ہمارے پردادا تو شیر کا موں چیر کراندر سے زبان نیکال لیا کرتے تھے- وہ وہ تو چوہا رہا ہوگا----کمبخت!"
میر صاحب کو باتیں کرنے کا آج موقعہ مل گیا تھا- منسی پالٹی انکے کھوکھے کو کی بار اٹھا لے گی تھی- اینکروچمینٹ کے معاملے مین کی بار پرچیاں کٹوا نی پڈ گی تھیں-وہ سوچتے تھے کہ نواب صاحب اپنی حویلی کا ایک ٹکڑا دے دیں توخانے کمانے کا ذریعہ پیدہ ہو جائے- لیکن وہ تو بولنے ہی نہیں دیتے تھے- آج وہ کہکر ہی رہینگے...مگر وہ تو کھڈے کھڈے یکدم ڈھیر ہو گئے- اس-پاس کے لوگ دوڑے اور یتیم خانے کی ڈسپنسری تک پہونچایا- وہان سے وہ کب فارغ ہوے، پتہ نہیں چلا- میر صاحب جب بھی انکی حویلی کے بوسیدۂ میں گیٹ تک گئے بھی لیکن وہاں تو موٹا تالا پڑا ہوا ملا- کسی نے بتایا کہ اب اس حویلی مین کوئی اسکول کھلنے والا ہے- انہوںنےمڈکردیکھا بھی، لکھا تھا 'مہاراج اردوگرلس سینیر سیکنڈری اسکول..کاظمین .'
چھٹا نی چا نے اچانک قاری صاحب کو کانپتے ہوے دیکھا تھا، سوچا تھا تلاش کر حویلی مین انھیں دیکھ- آیں- کئی دنوں سے انکا ادھر منصور نگار مین کم یونٹی اسٹورپر آنا بھی نہیں ہوا ہے-بیچارے کاظمین والے میر صاحب کو کھوکھے کی جگہ دلا دیں تو انکی روزی روٹی کا بندوبست ہو جاےگا- - حویلی کا حاتہ کافی بڑا ہے، ویسے بھی قبضہ گروہ تاک مین لگے رہتے ہیں- - شاید نواب صاحب اسی لئے پریشان رہتے ہوں-
لیکن جب چٹھانی چا حویلی کے حاتہ مین داخل ہوے تو دروازہ پرایک نیم پلیٹ دیکھکر وہ حیرتزدہ ہو گئے-"یہ کیا ہے؟" میر صاحب کو بلایا ، پوچہتانچہہ کی -تاحال کر معاینہ کیا-پڑوسیوں سے پتہ چلا کہ یہ حویلی واقف بورڈ کے اندر آتی ہے- نواب صاحب اسکے مطوللی ہیں-دیواریں جھڈتی جا رہی تھیں-پلستر کو لونی چاٹنے لگی تھی- لکھوری اینٹیں جھڈ رہی تھیں- کاچچا فرش، دروں مین ٹاٹ کے پردے، ایک کے بعد ایک ، ایک بڑا سا جھاڈ جھنکھاڈ سے بھرا آنگن، اسکے پار ایک کوٹھری، وہیں سے کھانسنے کی آوازیں آ رہی تھیں- چھٹنی چا سیدھے وہیں پہونچ گئے-دیکھا، قاری صاحب گھٹنے موڈے ایک گھڈے کے پاس بیٹھے تھے - ہاتھ مین ایک تامچینی کا ڈونگا تھا جسمیں وہ پانی دال رہے تھے. تن پر ایک جانگیھئے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا- جسم کی ایک-ایک ھڈڈی گنی جا سکتی تھی- قدموں کی آہٹ نے بیمار عذارکمزور قاری صاحب نے چونک کر چھٹانی چا کو دیکھا-"ارے، چھٹانی میاں آپ؟"
"بہت دنوں سے نظر نہیں آے تودل بیچیں ہو گیا- سوچا چلو آج آپکو ہی تلاشا جائے- اور دیکھئے، میں آپکی خدمت مین حاضر ہوں- روح نے آواز دی، کہ قاری صاحب کسی مصیبت مین ہیں، چلو تلاشا جائے- دشمنوں کی طبیعت...."
"اماں کچھ نہیں، بخار نے گھیر رکھا ہے- لوگ کہتے ہیں کہ کوویڈ کی لہر ای ہویی ہے- میں سب موت کے بہانے ہیں، ڈاکتروں کے نیے افسانے ہیں بس، اور کیا-کمبخت مچّھر بھی کب کم بدمعاش نہیح ہیں- بیٹھے- ٹوٹی چارپائی ہے، چار کندھوں کے لئے کافی ہے-
نظر گدڈی پر گی، چیکٹ بسترا- سرہانے ایک ٹوٹا تکیہ، دیوارسے لگا ایک پرانا صندوق، باہر الگنی پرچند کپڑے- یہی تھی اس کوٹھری کی کل کاینات- دیکھ کر چھوٹانی چا کی آنسوں سے آنکھیں بھر آییں-کانوں مین آواز آئی،" پان نوش فرماینگے چھٹانی میاں؟"
"کیوں نہیں نواب صاحب-" اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوے چھوٹانی چا نے آخرکار پوچھ ہی لیا،"برا مت مانےگا نوں سحاب، جب تک ہم یہاں نہیں آے تھے تب تک آپکے بارے میں جو تصویر ذھن میں ہمنے بنائی تھی، اسسے اب کی تصویر مل نہیں کھاتی ہے، سبب؟"
"اپ سہی فرما رہے ہیں...." چھٹا نی چا نے دیکھا، نواب صاحب چولھا جلاکر چاے کا پانی چڑھانے لگے تھے- دھویں سے کوٹھری بھر گی تھی- قاری صاحب جب اطمینان سے پلنگ پر آے تو وہ بولے،"آپ سہی فرما رہے ہیں چھٹنی میان، زندگی کا یہ فلسفہ ہر ایک کو سمجھ میں نہیں آییگا-"
"فلسفہ ؟"
"ہاں ! فلسفہ،زندگی کا فلسفہ! دیکھے ، بادشاہ سے لیکر ایک غریب مزدور تک زندگی کی سچچایوں سے کچھ لمہوں تک دور ہونے کی کوششیں کرتا رہتا ہے- وہ ایسے خوابوں میں چند لمہوں میں سیر کر لینا چاہتا ہے جو اسکی پہنچ سے بالہ ترہوتے ہیں-ان لمہوں میں انسان فتح اور شکست کے تصورات سے نکلکرداستانوں اور را گ راگنیوں میں رم جانا چاہتا ہے- مزدور اپنوں کے بیچ الہہ گانے بیٹھ جاتا ہے، بچچے دیو-پریوں کی دیومالائی کہانیوں میں جی لینا چاہتے ہیں، وہ دادی نانی کو اپنا وثوق سمجھکر انمیں گم جاتے ہیں- ہر میتھ جینے کا ذریعہ پیدہ کر دیتا ہے-ایسے میں زندگی سے فرار کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں-زندگی سے فرار ہونے کی کوششیں بےسود ہو جاتی ہیں-لیکن ہم پھر بھی جینے کی خواہش سے منہ نہیں موڈ پا تے کیونکہ موت حقیقت میں انسان کے اختیار میں نہین ہے- پھر بھی مکڑی اپنا جال بنتی رہتی ہے- یہی ہے دوہری زندگی- مکڑی مرنا نہیں چاہتی لیکن بچچے پیٹ پھاڈکرپیدہ ہو جاتے ہیں اور اپنی مان کو ہی کھا جاتے ہیں-ہماری کوششیں بھی ایسی ہی ہیں- ہماری زندگی میں بھی فنٹیسی ہے، مگر ہم ریشم کے کیڈے کی طرح جیتے رہتے ہیں-یہ جانے بغیر کہ اسے کبھی بھی کھولتے پانی میں ڈوبو کرمارڈالا جاےگا کیونکہ اسکے پاس کپاس ہے، یعانی جینے کی وجہ ہے جو منڈیاں طے کرتی ہیں- "
"یعانی کہ آپ..."
"ہاں ہم، ہم ایک تاریخ ہیں-کھنڈھر ہماری شکلیں ہیں-شکلوں کے سایے ایک تصوّر ہے-روشنی کے جاتے ہی وہ بھی نہیں ٹھہرینگے-کوئی چیز، مخلوق، جاوداں نہین ہے- کل ہم نہیں ہونگے کوئی اور ہوگا- اس لئے یہ چلتے پھرتے سایے ہمارے وجود کا حصّہ ہیں، یہ ہمارے خالیپن کا حصّہ ہیں-انہیں کھنڈھرمت سمجھو-کل پھر یہاں عمارتیں ہونگین، نے لوگ ہونگے، نیی سیاستیں ہونگیں، نے مذاہب ہونگے اور نی دنیا ہوگی- پھر وہ تاریخ بن جاےگی-اس تاریخ کے خالپن کو ہمنے بھرتے رہنے کا عزم لیا ہے...."
چولہے پر رکھی کیتلی میں اب ابال آنے لگا تھا-
__________________________________________________
افسانے پر آپکی راے اشد ضروری ہے / رنجن زیدی
Who is who
Name:Z.A.Zaidi 'Ranjan Zaidi'
Father;(Late) Dr.A.A.Zaidi; Birth; Badi,Sitapur U.P.INDIA; Journalist &; Author> Educ;M.A.Hindi,Urdu,Ph-D in Hindi; Works; Written 14 books,Participated in seminars,workshops>
Pub;six short stories collection (Hindi),Five Novel,Two Edited Books, Books for Women issues and five others book;:
Latest Books;& Hindi Novel; Released,
Film & amp; musical album (song in 15 languages.Shreya Ghoshal,Usha Utthup with others, Music; Late Adesh Srivastav, Bol; Ab humko age badhna hai…) for video,serials, documentaries & several papers/reviews/published journals/magazines/news papers>
Joint Director Media (Retired,Editor; SAMAJ KALYA, Hindi Monthly,CSWB Govt.of India;> Awards;(1985);Delhi Hindi Academy(1985-86),journalism(1991)....
https://zaidi.ranjan20@gmail.com
Address; Ashiyna Greens,Indirapuram Ghaziabad-201014 UP Bharat,
सदस्यता लें
टिप्पणियाँ भेजें (Atom)
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें