مٹتی [ناول] [Urdu]
اردو ناول
ڈاکٹر رنجن زیدی
------------------------------------
(١یک )
پڑھیں ناول ( کڈی مٹتی
(Urdu Novel 'Mitti')
ڈر.رنجن زیدی
------------------------------------
(١یک )
"اچّھا، انور میاں ! اجازت دیں..." سید تقی حسن اپنی بیگم زینب تقی حسن کے ساتھ اٹھ کھڈے ہوے، بولے-"جاتے جاتے ایک گزارش ضرور کرنی تھی بیٹا، بیٹی شازیہ سے کبھی کوئی غوستاخی، یا غلطی ہو جائے یا اسکی بیٹی شازی سے نادانی میں ہی سہی، کوئی بھول ہو جائے تو اسے بیٹا معاف ضرورکردیا کرنا...بس، الله تم سبکو خوش اور سلامت رکھے!"
اتنا کہ کرسید تقی حسن نے اپنی عینک اتارکراس کے لینس رومال سے صاف کیے اور پھر بھیگی پلکیں پوچھ کرچشمہ پہن لیا- چلنے سے قبل انہوں نے پیار سے بھری ایک نگاہ شازی پر ڈالی اور باہری دروازہ کی طرف مڈ گئے-
انوارال حسن عرف انور میاں، شازیہ کے شوہراورانڈین میڈیکو کے مالک سید احمد حسین کے بڑے صاحبزادہ
ہیں- چھوٹی دو بہنوں کے وہ اکلوتے بھای بھی ہیں جنہوں نے اپنے خاندان میں نہ صرف آلہ تعلیم حاصل کی بلکہ بزینس مینیجمینٹ میں گولڈ میڈل بھی حاصل کیا-عمرمیں وہ اپنے چچا بشیرحسن سے صرف 5 سال بڑے تھے لیکن آزاد خیال ہونے کی وجہہ سے نہ تو انھون نے شادی کی اور نہ ہی اپنا گھر بسایا- شہر کے اکثر لوگ انھیں نواب صاحب بھی کہا کرتے تھے- مزاج میں آزاد خیالی اور عورتوں میں خاص دلچسپی انکے مزاج کا خاصہ ھتے اور سماجی قید وبند میں گھرے رہنا انکا کبھی تیرہ نہ تھا- لیکن اپنے آبائی بزنس سے انھیں قطعی نفرت نہیں تھی-
انوارالحسن عرف انورمیاں کی لکھنؤ کے مشہور بازار امینآباد میں کیمسٹ کی ہہت بڑی اور پرانی شاپ ہے- بڑے بھای یعنی سید احمد حسن نے جب اپنے والد سے اسے وراثت میں پایا تب وہ بڑے بھائی سے15 سال چھوٹے تھے لیکن احمد حسن اور انکی بیگم اتتو آپا نے بشیرال حسن کو اولاد سے بڑھکر سمجھا اور ممتا دی- انور میاں سگے تھے تو پالا پوسا بھی اسی طرح- بڑا کیا، پڑھایا، لکھایا، شازیہ خاتون سے شادی کی اور اب محمّدٍی آپا جو انکی اکلوتی بیٹی ہیں، انکے رشتہ کی فکر میں سب مل کر سوشل سیکٹرکی دنیا کھنگالنے میں لگے رہتے ہیں- لیکن وہ ایک خوش دل خاتون ہیں اور اپنی بڑی خالہ زا د بہن شدانہ باجی کے ساتھ مکان کے ایک کمرہ میں شروع سے رہتی آ رہی ہیں - یونیورسٹی میں پڑھی تھیں لیکن بدلتے وقت اور حالات کے رہتے سرکاری نوکری کہیں نہیں ملی- فطرتاً ادب اور شاعری انکی کمزوری تھی اور وہ کمزوری اب بھی ہے- کیی پرائویٹ نوکریاں ملی بھی،مگر دل گھر میں ماں کی کنڈی میں اٹکا رہتا تھا- وجہہ تھی، کٹرہ ابوتراب کے قاری جھون جہون والا سے بچپن کی دوستی- گنڈے، تعویز کرتے تھے،اور مستقبل کی خبر بھی رکھتے تھے- محمّدٍی آپا کے بارے میں انکا خیال تھا کہ وہ شادی کبھی نہیں کرینگین لیکن کسی فقیرصفت پیر سے انکا معاشقہ ضرور چلیگا اوربرسوں تک چلتا رہیگا-
قاری جھون جہون والا دراصل ایک بڑے تاجرالطاف حسین جھن جہون والا کے بھای نواب چھتٹن میاں کے چشم و چراغ ہوا کرے تھے. گول دروازہ سے کچھ فرلانگ کے فاصلے پر زوھرہ بائی امبالہ والی کے امام باڑہ کے متولللی اور روزہ بیبی فاطمہ کے منتظمین بھی وہی تھے- انکے رہتے پورے محرم میں مجالس کا سمہ سا بندھا رہتا تھا- انکی موجودگی محفل کی کامیابی کی ضمانت مانی جاتی تھی-
*****
انوارال حسن عرف انور میاں، شازیہ کے شوہراورانڈین میڈیکو کے مالک سید احمد حسین کے بڑے صاحبزادہ ہیں- چھوٹی دو بہنوں کے وہ اکلوتے بھای بھی ہیں جنہوں نے اپنے خاندان میں نہ صرف آلہ تعلیم حاصل کی بلکہ بزینس مینیجمینٹ میں گولڈ میڈل بھی حاصل کیا-عمرمیں وہ اپنے چچا بشیرحسن سے صرف 5 سال بڑے تھے لیکن آزاد خیال ہونے کی وجہہ سے نہ تو انھون نے شادی کی اور نہ ہی اپنا گھر بسایا- شہر کے اکثر لوگ انھیں نواب صاحب بھی کہا کرتے تھے- مزاج میں آزاد خیالی اور عورتوں میں خاص دلچسپی انکے مزاج کا خاصہ ھتے اور سماجی قید وبند میں گھرے رہنا انکا کبھی تیرہ نہ تھا- لیکن اپنے آبائی بزنس سے انھیں قطعی نفرت نہیں تھی-
انوارالحسن عرف انورمیاں کی لکھنؤ کے مشہور بازار امینآباد میں کیمسٹ کی ہہت بڑی اور پرانی شاپ ہے- بڑے بھای یعنی سید احمد حسن نے جب اپنے والد سے اسے وراثت میں پایا تب وہ بڑے بھائی سے15 سال چھوٹے تھے لیکن احمد حسن اور انکی بیگم اتتو آپا نے بشیرال حسن کو اولاد سے بڑھکر سمجھا اور ممتا دی- انور میاں سگے تھے تو پالا پوسا بھی اسی طرح- بڑا کیا، پڑھایا، لکھایا، شازیہ خاتون سے شادی کی اور اب محمّدٍی آپا جو انکی اکلوتی بیٹی ہیں، انکے رشتہ کی فکر میں سب مل کر سوشل سیکٹرکی دنیا کھنگالنے میں لگے رہتے ہیں-
لیکن وہ ایک خوش دل خاتون ہیں اور اپنی بڑی خالہ زا د بہن شدانہ باجی کے ساتھ مکان کے ایک کمرہ میں شروع سے رہتی آ رہی ہیں - یونیورسٹی میں پڑھی تھیں لیکن بدلتے وقت اور حالات کے رہتے سرکاری نوکری کہیں نہیں ملی- فطرتاً ادب اور شاعری انکی کمزوری تھی اور وہ کمزوری اب بھی ہے- کیی پرائویٹ نوکریاں ملی بھی،مگر دل گھر میں ماں کی کنڈی میں اٹکا رہتا تھا- وجہہ تھی، کٹرہ ابوتراب کے قاری جھون جہون والا سے بچپن کی دوستی- گنڈے، تعویز کرتے تھے،اور مستقبل کی خبر بھی رکھتے تھے- محمّدٍی آپا کے بارے میں انکا خیال تھا کہ وہ شادی کبھی نہیں کرینگین لیکن کسی فقیرصفت پیر سے انکا معاشقہ ضرور چلیگا اوربرسوں تک چلتا رہیگا-
قاری جھون جہون والا دراصل ایک بڑے تاجرالطاف حسین جھن جہون والا کے بھای نواب چھتٹن میاں کے چشم و چراغ ہوا کرے تھے. گول دروازہ سے کچھ فرلانگ کے فاصلے پر زوھرہ بائی امبالہ والی کے امام باڑہ کے متولللی اور روزہ بیبی فاطمہ کے منتظمین بھی وہی تھے- انکے رہتے پورے محرم میں مجالس کا سمہ سا بندھا رہتا تھا- انکی موجودگی محفل کی کامیابی کی ضمانت مانی جاتی تھی-
خالہ بی یعنی سعیدہ آپا ایک نیک اور کنبہ پرور خاتون تھیں- انکے دل کے قریب کچھ لوگ سچ مچ بہت ہی خاص تھےان میں ایک تھے خود میاں صاحب یعنی حکیم تجممل حسین صاحب- ایک شازیہ بیبی اور دوسری شازی-تیسرا وہ احساس تھا جسنے پورے گھر کو توڈ کر رکھ دیا تھا- انور میاں،دراصل دونوں کی ہی کمزوری ہوا کرتے تھے، لیکن محممدی آپا سے انور میاں کی نہیں پٹتی تھی-
اسکے باوجود وہ کسی اور سے انورکی برای نہیں سن سکتی تھین-ا ہو جاتا تو وہ رات بھر نہیں سوتی تھین- لیکن جب انکو محممدی آپا سے کچھ حاصل کرنا ہوتا تھا تو وہ کمرہ کی چھت پرکہیں سے چھپکلی پکڈکر لے آتے اور پھر پورے گھر میں چیخ پکار مچ جاتی- سیدہ بی کو ہی آخیر میں بیچ بچّاو کرانا پڑتا- چھپکلی دراصل محممدی آپا کے خوف کا مظہربن چکی تھی-
شازی، بھلے ہی انور کی بیٹی نہ ہو مگر شازیہ تو اسکی بیوی تھی- انوراوراسکے چچازاد بھای اشرف عمرمیں بہنوں سے چھوٹے ضرور تھے لیکن مرتبہ دونوں کا بلند تھا -بہنیں بھائیوں کی لاڈلی تھیں- کچھ ہو جاتا تو پورا میڈیکو اٹھکر گھر آجاتا- انور میاں اپنے بزنس کی مارکیٹانگ دیکھتے تھے اور مالکانہ حیثیت سےنایب چیرکی کرسی سنبھالتے تھے- سبکے ساتھ مل کر بہت اچّھا کاروبارچل پڑا تھا-
پڑھیں آیندہ کڈی/2

कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें