रविवार, 10 दिसंबर 2023

Urdu Novel 'TAHE_Aab' اردو ناول 'تہ آب ' Dr. Z. A. Zaidi, Ranjan Zaidi/ Chept-1

 Urdu Novel 'TAHE_Aab' اردو ناول 'تہ آب '

Chept-1

https://kathaanantah.blogspot.com/2023/12/urdu-novel-taheaab-dr-z-zaidi-ranjan.htmlناولسٹ ڈاکٹر رنجن زیدی  

Dr. Z. A. Zaidi Ranjan Zaidi

<zaidi.ranjan20@gmail.com>12:23 pm  Urdu Novel


'TAHE_Aab' اردو ناول 'تہ آب '

https://kathaanantah.blogspot.com/2023/12/urdu-novel-taheaab-dr-z-zaidi-r ناولسٹ/ ڈاکٹ رنجن زیدی     

{ 1 }

صبح کا وقت ہے- ایم جی روڈ پر اسکول جانے والے بچچوں کی گہما گہمیبڑھ چکی ہے- زیادہ تر بچچوں کے والدین انھیں اسکول تک چھوڑنے  آتے ہیں- ہنومان سنگھ راجپوت اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنی بیٹی آشیرواد عرف آشی کی انگلی پکڑے پہلی بار اسکول کے لئے گھر سے نکلا ہے- کسی انگلش میڈیم اسکول کی عمارت کا گیٹ پارکر وہ اپنی بیٹی کوآسمان چھولینے والی سیڑھی کا وہ پہلا پاےدان دکھاےگا جس پر پانون  رکھتے ہی وہ ایک عظیم عورت کی شکل میں تبدیل ہو جاےگی-

      کیسا عجیب سا احساس تھا اسکے بھیتر، اسکی روح میں-اسے لگا جیسے جیسے وہ علم حاصل کرنے والے اس عظیم شور کے سمندر میں بیٹی کو لیکر آگے بڑھےگا، اسکا قد پانی میں ڈوبتا جاےگا اور پھر....؟ وہ کانپنے لگتا تھا- اسکا ہر لفظ  رفتہ رفتہ کانپ رہا تھا-لیکن اسکی بیوی عاشی کی انگلی پکڑے ہوے تھی-حالانکہ   وہ خود لڈکھڈا رہی تھی مگر اسکے باوجود وہ اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹنے والی تھی- راجپوت جاننا چاہتا تھا کہ اسکی بیوی میں اضطرابیت کیوں نہیں ہے- اسنے اس طرح کے اسکولوں میں تو کبھی پڑھا نہیں ہے- پھر بھی وہ ایک مضبوط ارادہ والی عورت نظر اتی ہے- وہا  جانتی ہے کہ کاجل راجپوت اسکی کلائی پکڑکرتھامے رہ سکتی ہے- اسے ٹھیک سے سنبھال سکتی ہے-راجپوت نہیں جانتا تھا کہ اسکی شریک حیات کسی نہ معلوم خوف سے ہراساں ہوکر کسی وقت بھی بیٹی کی انگلی کو چھوڈ سکتی ہے-مگر راجپوت یہ نہیں جانتا تھا کہ اسکی شریک حیات تو خود اپنی بیٹی کے ساتھ آسمان چھو لینے کے زندہ خواب دیکھنے لگی تھی-

      "میڈم پوچہنگیں کہ صبح اٹھ کر کیا کرتی ہو؟ تو آپ کیا بتاےنگین"

      "کتنی بار پوچھ چکی ہو ممما؟"عاشی کچھ ناراضگی کا اظہارکرتی ہے-لیکن وہ سوال کا جواب ضرور دیتی ہے،"کہونگی 'ایشور الله تیرو نام، سبکو سنمتی دے بھگوان- کہکر کلنڈرسے جھانکتے بھگوان کو نمن کرونگی- نمن کر واشروم  جاوںگی. فرش ہوکر جب باہرآؤنگی  تب مممی-پاپا کی پوچچی لونگی-پھر....؟"

      "بس نننھی، بس،"ہنومان سنگ راجپوت نے خود کو سنبھالتے ہوے کہا،" میرے کو پتا ہے کہ اپن کی ننھی مننی  پرنسپل صاحب کے سارے سوالوں کے جواب دے دیگی-"

      "عاشی کے پاپا جی..."کاجل سنگھ نے کہا،" اپنی ٹپوری لینگویج پرنسپل کے سامنے مت بولنے لگ جانا- عاشی کے پاپا ہو، پولس کے محکمہ میں ہو، کچھ تو شرم کرو- انگریزی اسکول میں....."

      "اوتترے کی،ایسا سوچائچ نہیں- سڈک کا آدمی تھا میں-عادت ہے اپن کی- اب ہم انگریجی بولیگا- ٹیٹ پھورٹائٹ- نہی، اپن پولیس میں ہے-میں چپ رہیگا-ایک دن سدھار لیگا خود کو- دیکھنا بس، عاشی کا ایڈمیشن ہونے کو مانگتا-"

      " ہوییگا کیوں نہیں-  "ٹھٹھاکرہنستے ہوے کاجل نے اپنے شوہر سے کہا، "نہیں ہوےنگا تو میں بھی ٹپوری میں بات کرنے لیگیگی- پر میرے پاس بڑے  صاحب کا لیٹر ہے-اور آپ پولیس میں سپاہی ہیں، کوئی ایسے ویسے تھوڈے ہی ہیں- -ہوگا، ضرور ہوگا-'

      "وہ دیکھ مننی' سامنے ٹیلے پرجو لال رنگ کی بلڈنگ ہے، ویویچ!" ہنومان سنگھ راجپوت کی بائک پر پکڈ مضبوط ہو گی اور بایک چڑھائی چڑھنے لگی-

      چیمبر میں ہلچل تب مچی جب دو تین عورتیں  فائلیں لئے ہوے  چیمبر میں داخل ہویں-پھر پرنسپل میڈم آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیئیں- دونوں خاتون نے فعیٰل میڈم کے سامنے پھیلا دی- انٹرویو شروع ہو چکا تھا-لیکن کاجول بنا پلک جھپکاے پرنسپل میڈم کو دیکھ رہی تھی-      

 ناول (قسط -/2 

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें