सोमवार, 8 जनवरी 2024

Tahe Aab- 28/30

اردو ناول 'تہ اب'/ ڈاکٹر رنجن زیدی -------------------سفحہ ٢٨ وہ بیچ رات کا کوئی پہررہا ہوگا-انجنا ولاس سوسایٹی کی ساری لایٹیں روشن تھیں- سامنے گیٹ سے اکا دکہ موٹرگاڈیاں کیمپس کے اندر اتی نظر آ جاتی تھیں.بہت سے فلیٹس کے روشندان اندھیروں میں ڈوب چکے تھے- کچھ کی کھڑکیوں کے اسپار سے چھن چھن کر روشنی باہراتی دکھائی دیتی تھی-سوزی ایزی چیر پرپسری سننتے میں ڈوبے آسمان کو یکٹک دیکھ رہی تھی- آج دن میں ولا میں ہی گھر کے سبھی لوگوں کے ساتھ سوزی نےگڈڈی کی بنای ڈاکومنٹری دیکھی تھی- سبھی لوگ سبک سبک کر رویے تھے- رات بھی سوزی کم اداس نہیں تھی- وہ اپنے فلورکے ٹیرس پر اسنوپی کے ساتھ ایزی چیرپر لیٹی تاروں سے بھرے آسمان کو لگاتاردیکھ رہی تھی-جب آنکھیں آنسوں سے بھر جاتیں تو آسمان سمندر جیسا لگنے لگتا -اسے یاد آیا، ایسی ہی ایک رات تھی، گڈڈی ماں کے ساتھ ایک دوسری ایزی چیرپرپر پسری افق پر بکھرے کروڑوں ستاروں کو دیکھتی ہوئی سوالوں کی جہڑی لگا رہی تھی- 'پتہ نہیں لوگ کہاں سے آتے ہیں مما ، کہاں چلے جاتے ہیں-لوٹ کرکوئی نہیں آتا-" 'میدھاوی بھی کہاں لوٹکر آنے والی ہے' سوزی نے اپنے آپ سے کہا- حلانکی یہ سوال گڈڈی نے پوچھ تھا-جب سے دنیا بنی ہے ممما، بسی ہے یہ کاینات، اس میں سب کچھ کتنا غیر یقینی سا ہوتا رہتا ہے- پانی جیسی شہ پیدہ ہو جاتی ہے، کبھی وہ شہ آسمان سے زمین پراترتی ہے، تو کبھی زمین سے ابلنے لگتی ہے، کبھی دریا بنتی ہے تو کبھی سمندر-کبھو پیاس بنکر جینے کی ضرورت بن جاتی ہےتو کہیں سہرا بنکر پانی کو سوک لیتی ہے- اسی طرح بھوکھ ہے. زندہی ہے، موت ہے- لیکن ہم مچّھر کو مسل دیتے ہیں، وہ غایب ہوجاتا ہے، کل میں بھی غایب ہو سکتی ہوں؟ میں کہا جاؤنگی مام؟ جس مچّھر کو مین نے مارا تھا، وہ بھی تو ابھی تک نہیں لوٹا-......" سوزی بریگنزا گھٹنے میں سرڈالکر بھربھراکر رو پڑتی ہیں-'تو کتنے سخت سوال کیا کرتی تھی گڈڈی-تجھے ایک بار بھی اپنی مممہ پر ترس نہیں آتا تھا بچچے؟ ' وہ دیکھتی ہے ، تاروں کی بھیڈ سے کوئی پچچل تارٹوٹ کر رینگتا ہوا گھنے اندھیروں میں گم ہونے کا سفر طے کر رہا ہے-سنوپی سوزی کے پاؤں پر سر رکھے لمبے لمبے سانس بھر رہا ہے- گزرے دنوں کا کوئی منظر یکایک سامنے آ جاتا ہے- کانوں میں میدھاوی کی آواز گونجتی ہے- "مما، تارے ٹوٹکرکہاں جاتے ہیں؟" " اپنا ٹائم گزارکر شاید کسی گیلیکسی میں، کسی ڈیپ اسپیس میں یا ہماری زمین پر ٹھنڈا ہوکر کہیں، کسی حصّے پر-" 'پھر؟' 'پھر کیا، ٹوٹکر بکھر جاتے ہیں-' 'میری کلاس ٹیچر بتاتی تھیں،جو بچچے مر جاتے ہے، وہ تارے بنکر آسمان پر بکھر جاتے ہیں-موم! میں ستاروں سے آگے کی دنیا دیکھان چاہتی ہوں-' 'اسکے لئے تو تمہیں، ایسٹروناٹ بننا پڑیگا- بہت پڑھنا ہوگا...' پچچہل تارہ خلہ میں آواز کے ساتھ غایب ہوجاتا ہے- جیسے ہی وہ آنکھوں کے سامنے سے اوجھل ہوتا ہے، آسمان پر خوفناک گڑگڑاہٹ شروع ہو جاتی ہے-پھر لگتا ہے مانو پھا ڈ خوفناک آواز کے ساتھ ٹوٹ ٹوٹ کرخلہ میں بکھرنے لگے ہوں-اس کے ساتھ ہی بہت سی آوازوں کا شور گونجنے لگ جاتا ہے-جیسے کسی ہائی وے پربہت سی موٹریں، کریں، ٹرکس اپس میں ایک ساتھ ٹکرا گئے ہوں- انہیں خوفناک آوازوں میں گڈڈی بیبی یعنی مادھوی کی درد بھری چیخے، کراہیں کانوں سے ٹکراتی ہیں- لگتا ھے مانووہ کسی بڑی مصیبت میںکراہتے ہے ماں کو مدد کے لئے پکار رہی ہو- سنوپی گھبراکر ہڈبڈاہٹ میں کھڈا ہوکرسوالیہ نگاہوں سے سوزی کو دیکھنے لگا-سوزی بھی کچھ سہم گی- پورا بدن کانپنے لگا-وہ ریلنگ کی طرف لپکی مانو مادھوی ریلنگ سے چھلانگ لگانے جا رہی ہو-سوزی ما دھوی کو پکڑنے کے لئے ریلنگ سے ٹکراکر روک گی- کراہتے ہے اسنے بیٹی کو پکارا...گڈڈو، میری بچچی! کانوں میں میدھاوی کی دور ہوتی ہوئی آواز سنای دی،"ممما!" "ارے میرے بچچے، کہاں ہے تو؟" "ہیلپ مے ممم! ممم! ممم! ممم! مجھے بہت دار لگ رہا...ہے-کوئی مدد نہیں کر رہا ہہے- میرے پاس آ جو ممما! پلیز....." "مین.....میں میں آ رہی ہوں بچچے! ڈرنا نہی-تیری ماں ابھی زندہ ہے بچچے! ہیلو! ہیلو! " ہیلو! کہا ہے بتا؟ بول تو سہی!ہے رام! کیا ہو گیا ہے میری بچچی کو! ١٠٠ نمبر.... اور پھر پولیس کی گاڑیوں، ھوٹررون کا شور....ہر طرف بوٹن کی دھمک اور پولیس کی گاڑیوں کے شور نے پوری سوسا یٹی میں دھمال سا مچا دیا اورسوزی کے والدین رٹایرڈ پولیس کمشنر پیٹر برگنزہ، انکی زوجہ میری برگنزہ اور پڑوسی، سب آنکھیں ملتے ہوے سوزی کی مدد کے لئے دوڑپڑے- سوزی اپما پرس اٹھاکر اپنے فلور سے دھڑدھاڑاتی ہوئی سیڑھیاں اترکر اپنی کارمیں جاکر بیٹھ گی- ڈرائیور اور اسکے پولس گارڈدم بھرمیں ہوٹرکی آوازون کی رفتارکے ساتھ بھی تیزرفتار سے گیٹ سے نکل کرمین سڈک پر نکل گی- یہاں سے نرسنگ ہوم کا فاصلہ تقریبن 8 کلو میٹر تھا- شہر کا بڑا نیشنل پریس پہلے ہی نرسنگھ ہوم کی عمارت بھر میں پھیل گیا تھا- چپپے چپپے پر پولیس آنے-جانے والوں پر نظر رکھے ہوے تھی-کار سے اترتے ہی وہ تیز قدموں سے ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھتی ہے-وکیل وکلا، شہر کے بااثر لوگ اور پولیس کے بدی افسر سوزی کے ساتھ وارڈ کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن مادھوی آپریشن وارڈ میں زندگی اور موت سے جوجھ رہی تھی-سوزی کو اپریشن تھیٹر کے باہر روک لیا گیا تھا-وہ کالے چشمیں میں اپنا درد آنکھوں میں سنجو چکی تھی- پیٹربرنگزااپنے جانکاروں اور دوستوں کے ساتھ گیکری میں موجود تھے- ہر کوئی بہاگ دوڑرہا تھا-سوزی تک پلا پل کی خبریں پہنچائی جا رہی تھیں-لیکن وہ دیوار سے ٹکی آنسو بہا رہی تھی لیکن انھ کوئی دیکھ نہیں پا رہا تھا- میڈیا پاس میں آنے کی کوشش کرتا ہے لیکن پولس انھیں دور کر دیتی تھی-تداپتی مچھلی کی طرح وہ آپریشن تھییٹرکی طرف بڑھتی تو پریس پاس آنے کی کوشش کرنے لگ جاتا-بڑی مشکل سے سوزی انھیں روکتی،"پلیز پیچھا مت کیجئے-اس وقت میں آپ لوگوں کے کسی بھی سوال کا جوان نہیں دے پاؤنگی-میری دماغی پریشانی کو آپ لوگ سمجھیں-میری بیٹی اس وقت زندگی ہے موت کے پلسرآت سے گزر رہی ہے- آپ سب جانتے ہیں کہ اسکے ساتھ کیا ہوا ہے." اتنا بھر کہتے ہی اسکی آواز تھرتھرانے لگتی تھی- بڑی تعداد میں مآدھوی کے کآ لیج-فیلوسٹوڈنٹس سوزی کو اپنی حفاظت میں لے لینا چاہتے تھے لیکن پولیس نے صبکو باہر کھدیڑ دیتی ہے- سوزی ہمّت جٹاکرطالبعلمون کو سمجھتی ہے،"اس وقت ہم سبکی ایک ہی پرایرٹی ہے ہی کسی بھی طرح سے میری بیٹی بچ جائے- جو آپ سبکی دوست ہے- اسے خطرے سے باہر آ جانے دیجئے-پلیز!اسکے لئے اسوقت آپ سب کی پرآرتھناؤں، دعاؤں اورمدد کیضرورت ہے- لیو می الوں- پلیز !" ایسے حالت میں کچھ فاصلے پر جھگگی بستی کے سنے بلوغیت کو پہنچنے کے قر یب عمروالے تیز ترّآ ر لڑکے غصّے میں کچھ گفتگو کرنے میں مصروف تھے لیکن پولس والوں کی ان پربرابر نظر ٹکی ہوئی تھی- ان میں ایک کا نام پیٹی، دوسرے کا کوکا تھا- پیٹی سوزی کی طرف عشآرہ کار بتا رہا تھا کہ یہی وہ بیبی جی کی میڈم جی ہے جنکی بیٹی کے ساتھ یہ کآنڈ ہوا ہے- اور لوگوں کے بارے میں ہم نہیں جانتے---" "پین بولے تو پیٹی، یہ پولیس وآلے اپن کوکآے کو گھورتا ہے- کیا اپپن نے تیری بیببیکا ریپ کیا ہے ؟ بولے تو....." "ایسا کآے کو بولتا؟ پولس تو شک کریگی- اپن جھگگی بستی کا پوٹٹا جو ہے-اپن لوگ ادرچ کآیے کو آیا؟ " "سالے نامرد! "کوکا نے دانت پیستے ہوے کہا،"اپپن کے سامنے یگا تو چیر کے رکھ دیگا میں-کیا؟ پن پولس اپپن کو کآے کو دیکھتی بآششا .... " " پولیس جانتی ہے کہ تو ڈرگ کیریرہے.ادھر سے ادھر ڈرگ پہونچانا " پیٹی نے گردن جھکآے جھکآے کہا- "ڈرگ کیریر بولے تو؟" اسی وقت ایک نرس فائل لیکرگللیبازچھوکروں کے پاس سے ہوکر دورے موڈ سے آ وجھل ھو جاتی ہے- لڑکے گیٹ کی طرف ابھی بڑھتے ہی ہیں کہ ایک سب انسپیکٹر کڑککر لڑکوں کو روک لیتا ہے،"روک...!" "کہان رہتا ہے؟" "جیجے کولونی میں...' پیٹی جواب دیتا ہے- "کب سے؟" "تم ادھر نوا نوا آیا ہے-اسلئے پوچھتا ہے سآب! بچچا بچچا جانتا ہے کوکا جادوگر کو-" جواب کوکا دیتا ہے." یہ پیٹی اپن کا مآ سٹر ہے- جیل بیبی پیٹی..." "ایوننگ ا سکول کا سٹوڈنٹ ہوں صاب، -" پیٹی نےبا ادب جواب دیا-".....اور ٹیشن پلیٹفورم کوچنگ کا میمبربھی- یہ کوکا بھی پڑھنے کو آتا-" "میں ....کوکا نے کہا،"میں روڈ پرمجمہ لگاتا ہے صاب! یہ اپن کا مآسٹربوٹ پالش کرتا، اور کچھ ؟" "آو ہو! بڑے روب سے بات کرتا ہے پولس سے -اکڑتا بھی ہے- یہ نہیں بتایا کھ کہ تو ڈرگ پیڈلربھی ہے-ڈریگ کوکئی.... " "جانتا ہے تو اپن سے پوچھتا کآے کو ہے؟" " پوچھنے کا، اگے بھو پووچہنے کا-بتآیگا بھی تو! شہر چھوڑکر جانے کا نہیں- گیا تو ترا انکاونٹر کر دیگا- میں انسپکٹر شیامراو سآونت- آنکہ نیچے بات کرنے کا-بات تیرے کو سمجھ میں آئی کی نی-جواب دے!کل جس چھوکری کے ساتھ گینگ ریپ ہوا ہے، ترا اسے کیا سمبندھ ہے؟ جھوٹھ بولیگا تو ادرچ مآ ر مار کے لٹکا دیگا...." "مین اسے جانتا ہے-" پیٹی نے آنکھوں میں آنکھیں ڈالکر جواب دیا-پالش کرتا ہے میں-روا پارٹی میں پہلی بار ملا تھا میں-" "اور تیرے سے ؟" انسپکٹر نے کوکا کے چہرے پر آنکھیں گڈاتے ہوے پوچھا- "ابھی میرے کو ڈرگ کوکی بولا تھا-پھر کے کو پوچھتا ہے صاب؟" " میں الا میڈم اور اسکے دوستوں کے اے کم کرتا تھا- میدھآوی بیبی الا میڈم کا نیا فرینڈ ہے-بس اپن کے پاس اتنائچ معلومات ہے- آپ بولتا تو شہر نہیں چھوڑتا- یہ شہر ہی تو اپن کا مآی باپ ہے-کیدر جاےگا میں؟" "وکٹم سے جتنا دور رہیگا، تیری صیحت کے لئے اتنا ہی ٹھیک رہیگا- اگر یہ بات بھول جاےگا تو تیرے کو یہ انسپکٹر شیام راؤ سآ ونت پچھاڑی میں گولی ڈال دیگا-تیرے کو میری بات سمجھ میں آی کہ نہیں؟" انسپکٹر شیام راؤ سآ ونت نے کالے شیشوں والی عینک سے دیکھا، غصصے میں پیٹی کی دونوں مٹٹھیاں کستی جا رہی تھیں-اسکے باوجود اسکی انکهین انسپکٹر شیام راؤ سآ ونت کے چہرے سے ہٹ نہیں رہی تھیں- "گهور مت، خبری بنےگا؟" "نہیں!" جواب کوکا نے دیا- اپن نمبر دو کا دھندھا مجبوری میں کرتا ہے صاب -اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ پولس سے نفرت نہیں کرتا میں- نفرت میرے کو آ گے بڑھآ تی ہے-جیسے دیوار میں امیتابھ بچچن کو دیتی تھی-چورسپاہی کے کھیل میں میرے کو مات دے سکتے ہو صاب، پر کوکا کو خبری نہیں بنا سکتے، فل اسٹاپ! چلتا ہے مین--- بیبی کا کیس دیکھو صاب، بہت کچھ ملیگا اس میں، جے ہند صاب!" اپنے لمبے قدم بڑھاتا ہوا کوکا پیٹی کے ساتھ باہر نکل گیا- وہ مدکر یہ بھی نہیں دیکھتا کہ پولیس افسر اور دوسرے لوگ انھیں جاتے ہوے مین گیٹ کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں- میدھاوی بیبی کے چہیتے پیٹ، جسکا نام سنوپی ہے، اچانک بھونکنے لگ جاتا ہے- سوزی چونک کر اسکی طرف دیکھتی ہے لیکن وہ مادھوی بیبی کے کمرے میں جاکرآنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے- نظروں کے سامنے مانو کوئی ادھوری فلم چلتے-چلتے اپنے اپ ٹوٹ جاتی ہے-ستاروں سے بھرے افق پر پورا چاند نکل چکا تھا- سوزی گھٹنون میں اپنا سر ڈالے سبکنے لگی تھی-وہ ڈھا ڈین مارکر رونا چاھتی تھی لیکن کوئی شہ تھی جو اسے رونے سے روک رہی تھی- اس وقت یکایک اسکے کان ان آوازوں کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں جو نیچے گراؤنڈ فلورسے آ رہی ہوتی ہیں-غور سنا تو لگا مانو گراؤنڈ فلور پرہی مسٹر پیٹر برگنزہ اپنی بیوی میری برگنزہ سے پھر جھگڑنے لگے ہیں- اور مسز برینگنزہ جھگڑنے کے بیچ چیخ چللا رہی ہیں- شاید تب وہ اپنی بیوی کو نشے کی حالت میں پیٹ رہے ہیں- سوزی اپنے غم بھولکر اپنی ماں کے غموں میں شریک ہونے کی غرض سے تیز قدم بڑاھتی ہوئی گراؤنڈ فلور میں پہنچ جاتی ہے اور پھر......! *****

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें