बुधवार, 25 अक्टूबर 2023

Urdu Afsanh : Jannat By Dr. Ranjan Zaidi


Story
      (آخری قسط )
       
جنّت    

 ڈر. رنجن زیدی       

https://kathaanantah.blogspot.com/2023/10/urdu-afsanh-jannat-by-dr-    ranjan-zaidi.html                                                                                                                                       

      جنّت کےسامنے  ویڈیو آن تھا، سلمان دیر سے جنّت کو یقین دلا نے کی کوشش  کر رہا تھا کہ اسکے والد غلط آدمی نہیں ہیں- نہ ہی وہ خودغلط  لوگوں کو پسند کرتا ہے- وہ درد سے بھری  آواز میں  اپنے جذبات بیان کرنے کی کوششش کر رہا تھا "میری حالت اس بڑے مشہور شاعرامیر مہدی کے اس شعرجیسی ھوگی  ہے جس میں وہ اپنا درد بیاں کرتا ہے کہ                        

                    'مین وہ آنسو ہوں جو پلکوں کی اٹھاکر چلمن

                    کبھی چھانا نہیں، چھلکا نہیں، ٹپکا بھی  نہیں 

                                                          (امیر مہدی)

      "تم جس لڑکی کی بات کر رہی ہو وہ......سلمان بدی ہی کرب کے ساتھ بتا رہا تھا،"وہ حماس میں اسرایل کے ایک حملے کی وجہ سے زندہ درگور ہو گی- جب یہ حادثہ ہوا تھا، تب  وہ اپنے بیماراور زخمی  فلسطینی باپ کودیکھنے کی غرض سے بمشکل وہاں کے ایک بڑے مخدوش نرسنگ ہوم میں گئی ہوئی تھی- مخدوش عمارت پر بھی اسرایلی بموں سے حملہ کیا گیا اورپھر وہاں  چشم زدن میں سب کچھ ختم ہو گیا- اوس جوان کم سن ماں کے ساتھ  اسکی بیٹی ہاجرہ بھی گی ہویی تھی-اب نہ وہ  ہاجرہ   ہے اور نہ ہی اسکی ماں اور نہ ہی اوسکے والد-جو کبھی میرے باس ہوا کرتے تھے- سوچو جنّت، میں کن حالات میں یہاں اس وقت لبنان میں ہوں جہاں کچھ دیرقبل  اسراییل کا مزاییل آکر گرا ہے اور فایرنگ کےدوران بھی میں سفر کر رہا ہون -"

      "سوری اسلم، ویری سوری "جنّت نےبہت دھیمی آواز میں کہا،"میں خود بہت پریشان ہوں- میرے ابّو خودبہت بڑےذہنی خلفشار سے  گزررہے ہیں، ابھی بھی حالتے غیر میں ہیں-انھیں تکلیف پہنچانے کا ہم میں سے کسی کا نہیں تھا-  جانے انجانے میں جو کچھ ہوا وہ غیر یقینی تھا-کچھ میری غلطفہمی اور کچھ حالات کی- نتیجتن، میں، مممی کوبھی سنبھال رہی ہوں، سعدیہ کو بھی دیکھ رہی ہوں- جو خود حالات سے لڈ رہی ہے-اس وقت سعدیہ ابّو کی کوئی دوا  لینے کیمسٹکی شاپ تک گی ہے- -ابواوراممی کو دیکھ کرتودل  بیٹھا جا رہا ہے----ویڈیو آف کر رہی ہوں- کوئی آ رہا ہے، شاید اممی اور بلقیس چچی ادھر ہی آ رہی ہیں- او کے...."                   

       پھولتی سانسوں کے بیچ نسیم انصاری نے  صابرہ بی کے ہاتھ پکڑکر بڑی مشکل سے کہا،"سینے میں پتہ نہیں .....چبھن کیوں ہو رہی ہے؟تولیہ سے میرا پسینہ پوچھ دو-  شاید اب وقت آخر ہے...."

      "یہ آپکو اچانک کیا ہو گیا ہے؟" صابرہ نے اپنا منہ چھپاتے  ہوے کہا اور سبکنے لگین-     

     " تمہیں یاد ہوگا، "ہمّت جٹاتے ہوے نسیم انصاری  نے کہا،"  جنّت کو ریٹن کوالیفای کرنے دو، میں نے پہلے بھی کہا تھا-  لیکن بھای دلاور نے گھر میں  سیاسی لوگوں کے بیچ پارٹی ارینج کر سب طرف  ہنگامہ کر دیا- مجھے یہ سب چکاچوندھ پسند نہیں ہے-  پتہ نہیں کیوں بھائ دلاور میری زندگی کوراس نہیں اتے رہے ہیں- -اب تو مین نے سب الله پر چھوڈ دیا ہے- جو وہ چاہیگا، ھوجاےگا- مین تو ایک معمولی سا چھوٹا موٹا بیاپاری رہا ہوں، سیاست سے میرا کیا کام؟ میڈم شبھرا نے کچھ نہیں تو میرے ہی گھر میں آگ لگا دی-انھیں بھی ہر وقت کوسنے سے کیا ملیگا؟ مین نے کتنا کچھ سوچا، دماغ خراب کیا اور دیکھلو بستر پکڈ لیا - مکّھی کا ایک ڈنک ساری مککّہیونوں کی موت کا سبب تو نہیں بنتا نا!- میری نظرمیں چیٹیوں کو گہنے پہنانا ممکن نہیں ہے-جنّت کو اپنی زندگی جینے دو صابرہ! وہ شادی نہیں کرنا چاہتی ہے تو مت کرو! اسے پڑھنے لکھنے دو....اف، مین اب تھکن محسوس کر رہا ہوں- کچھ دیرتک  سونا چاہتا ہوں. بولنے سے میری  سانس پھول رہی ہے-ڈاکٹر کو شک ہے کہ  مجھے کویڈ ہو گیا ہے  سعدیہ سے کہ دو، وہ بھی کووڈ سے بچے  - گھر جاکر آرام کر لے، دو راتوں سےوہ  سوی نہیں ہے-"

      صابرہ بی کے آنسو تھم نہیں رہے تھے- انکے بھیتر ایک گہری اور گاڑھی خاموشی بیٹھ گیی تھی- نسیم انصاری سو گئے تھے لیکن ڈاکٹر نے معانہ کر کہا، گلوکوس دینی ہوگی-کمزوری زیادہ ہے- لیکن بیہوشی اب رفتہ رفتہ بہڈھتی جا رہی تھی-

       نسیم انصاری کا چھوٹا موٹا کاروبار تھا، کی دنوں سے وہ بھی ٹھپ پڑا ہوا ہے-دلاور کی دوستی نہ پہلے راس آئی تھی اور نہ ہی اب...-انکے  روزگارمیں تو ایمانداری تھی- وہ سستی اور بییمانی برداشت نہیں کر سکتے تھے- دلاورنے انھین ایک طرح سے توڈ کر رکھ دیا ہے-  شبھرہ میڈم  نے سارے شہر میں منہ دکھانے کے قابل  نہیں رکھا تھا - جس طرح نسیم انصاری کو لوگون کے بیچ  شرمندہ ہونا پڑا تھا، وہ صدمہ  کیا معمولی تھا؟- جنّت بھی تو صدمے میں رہی، لیکن اسکا مشن دوسرا تھا-  وہ اپنی بلقیس چچچی سے خود کو دور نہیں رکھ پا رہی تھی!  بلقیص کے گھٹنون پر اپنا چہرہ رکھکر اسنے نرسنگ ہوم کے کمپاؤنڈ میں پوچھا،"چچچی، یہ کیسی خوشی ہے کہ گدگداتی بھی ہے اور رلاتی بھی ہے-ابّو کا تو بخارہی نہیں اتر رہا ہے- ایسے میں ہنسوں کہ روں؟ کہیں کووڈ پھر لوٹ کرتو نہیں آ گیا ہے- ماں نے بھی چپپی سادھ لی ہے- میں کیا کروں چچچی؟' 

      "بچچے،-غریبی قوم کے لئے الله کی بددعا ہے-" بلقیس نے کہا،"اسی بددعا کے ساتھ  ہماری اپنی زندگی، فوٹپاتہہ اور جھوپڑ پٹتی میں گزری- تقدیرکی روشنی کے نیچے اندھیرے میں مین اورتمہارے دلاور چا  اپنے بچچے کے ساتھ راتیں گزارنے لگے-  پہر وقت بدلا- الله نے علم دیا اور ایک شاندار مستقبل بھی- انھیں دنون بنارس سے سا ڑیوں کا کاروبار شروع کیا اورپھر  تم لوگ مل گئے-بیٹے نے کناڈہ جیسے ملک میں پڑھائی پوری کی- گرہستھی  کے دوران ہی میں نے گر سیکھا کہ کتّے اور بلّی جب لڈین توکنارے ھو جاو-اس میں جان جانے کا خطرہ اورجوکھم کم ہو جاتا ہے-" 

    دلاورانصاری جیل سے سیدھے نرسنگھ ہوم پہنچے اور نسیم کو بتایا کہ ضمانت پر آ گیا ہوں- اپنی زندگی ہے ہی کچھ ایسی- تم لوگ پولیس، کورٹ-کچہری، قانون اور جیل سے جلدی ڈر جاتے ہو! اسی لئے جذبات میں بہ جاتے ہو جاتے ہیں- سلمان انے والا ہے، میری کچھ دیر پہلے ہی بات ہوئی ہے- گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے-لیکن یار، تم چپ کیوں ہو، کچھ بولو! ؟ کچھ کہو...."

       دلاور کی تیوریوں پریکایک  بل پڑنے لگے، انہوں نے  نسیم انصاری کو گلے سے لگایا تو انکے ہاتھ-پانون  پھول گئے-" نسیم میاں---کیسے دیکھ رہے ہو؟ " انہوں نے نسیم کے  گال تھپتھپاے لیکن لمحوں  سے  خطا  ہوچکی تھی- اب  صدیوں کو  سزہ بھگتنی تھی-

       بھائی دلاور نے نسیم کی آنکھوں کو ڈھک دیا- بادشاہ غلطیاں کرتے تھے لیکن، نسلیں مذاق اڑاکر  قومیں برباد کردیا کرتے تھے---اب ہمیں بھی  کچھ ایسی ہی سزا بھگتنی ہوگی- ، تمہیں اتنی جلدی نہیں جانا چاہیے تھا-نسیم! اٹھو یار..." دلاور دھہاڈ مارکروہیں بیٹھ گئے اوررونے پیٹنے کی آوازیں گونجنے لگیں-

       نسیم اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے- موت کے گھر مین امیدیں سو جاتی ہیں- سسکیاں، سبکیاں، نالے اور رودن!  

      جنّت اپنے کمرہ میں پہونچکر خود میں سمٹکرسکوڈکر اپنےآپ میں اندر ہی اندر دھنسی جا رہی تھی-'ہائے الله، کیا ہونے والا ہے-  ایک ایک پل کتنا قیمتی ہے اور یہ سلمان------؟ جنّت نے آنچل سے اپنا سر پھر سے ڈھک لیا-" اسے لگا جیسے وہ بلقیس کے سوالوں کے جواب دے رہی ہو،  "جی چچی، مین گولڈمیڈلسٹ رہی ہوں -سعدیہ بھی بہت پڑھتی لکھتی ہے، زہین ہے..میں آئی.اے.ایس. کی تیاری کر رہی ہوں. اس بار امید بہت ہے...دیکھئے آپ لوگوں کی دعا یں  رہیں تو........."

      "ضرور کامیاب ہوگی بیٹی... تجھپر الله کی مہر ہو-صابرہ اور جنّت کو عورتیں گھیرے میں لئے ہوے تھیں- 

***** 

          بلقیس خود کو بہت کمزور پانے لگی تھیں- 'الله، یہ مجھے کیا ہو گیا ہے؟ جنّت نے مجھ پر کون سا جادو کر دیا ہے-کیا میں اسکے بغیر اب رہ پاونگی؟ سلمان پھر نہیں آیا-لیکن ایک فون ضرور آیا -"مین زینب بول رہی ہوں، کنڈہ سے-" لیکن اس غمزدہ ماحول میں بھی اچانک بھاڈ سےبند  دروازہ کھول اندر آکرہولہ خفتہ ماریعہ گرتے گرتے بچی، اور صابرہ کے گلے میں جھول گی-وہ بری طرح سے ہانپھ رہی تھی-"اممی،ٹیوی کھولو....دیکھ...."

      "ارے مری، ہوا کیا ہے؟"

      "سلمان آ گئے کیا؟" کان میں بلقیس نے پھسپھساتے ہوے پوچھا تو اسنے کہا، "اسے نہیں چچی، ٹیوی میں دیکھئے....کرشمہ ...باجی نے ٹاپ رینکنگ میں آئ اے ا یس کلیر کر لیا ہے-واؤ..... "

 ٹیوی پر انٹرویو میں  جنّت جواب دے رہی تھی،"مین اپنے مرحوم ابّو کی دوا ہوں-یہ انھیں کی خواہش تھی---آج وہ جنّت میں اس خبر پر بہت خوش ہو  رہے ہونگے-اس کامیابی کا سہارہ میری ماں صابرہ انصاری کو جاتا ہے- میری چچی بلقیس انصاری کو بھی جاتا ہے، جنہیں یقین تھا کی مین اپنے مقصد میں کامیاب ہونگی-ان سب میں میری چھوٹی بہن سعدیہ کا کوئی توڈ نہیں ہے-وہ میری جان اورجہان ہے...آج ہم دونوں بہنیں اپنے ابّو کو بہت مس کرینگے....کیونکہ بیٹوں کوعلم حاصل کرنے کی تبلیغ میرے ابّو کرتے تھے- یہ کامیابی میرے ابّو اور اممی کے نام!"

      " ہاے میری ماں!" سعادیہ نے ماحول میں اپنی خوشی بھی شامل کر دی،"ہے میری ماں! کتنی سینٹی ہو گیئں-" دپٹتے کے پللو سے صابرہ آنسو پونچھتے پونچھتے ہنس پڑیں- اور جب سعدیہ نے چھیڑچھاڑکی تو وہ بھربھراکر رو پڑیں-سعدیہ نے ماں سے لپٹکر کہا،"ابّو کے نہ رہنے پر اب آپ کبھی روےنگی نہیں- اگر آپ روئیں تو...تو.---میں شادی کر لونگی-" اس پر غمگین ماحول میں بھی سب عورتیں اور لڑکیاں ہنس پڑیں- 

      جنّت ابھی تک گھر نہیں لوٹی تھی- اسکا سبکو بیچینی سے انتظار تھا-- بہت سے صحافی تھے، محللے کے لوگ تھے-شہر کے ایلیٹ یوتھ تھے- اسی میں ایک پہنے شبھرا مالویہ کا تھا-"سعدیہ بیٹا، جنّت نے ہمارے شہر کا نام روشن کیا ہے، مبارک- تمہارے ابّو کے انتقال کی خبر سنکر بہت تکلیف ہی - جنّت کی شادی کا کیا ہوا؟ سلمان......؟

     " میم، جننت  باجی ابھی گھر پر نہیں ہے، انکے آتے ہی اپ سے فون کراونگی-"  

      بدھاییاں دینے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی.سعدیہ پی آ رمیں اگے آگے تھی اور لوگ اسکے پیچھے پیچھے- شہر بھر میں خوشیاں چھلکنے لگی تھیں- تبھی جنّت آ گی- لیکن بیحد مصروف-

******

      رات گئے ایک فون آیا-"ہیلو!" جنّت نے کوئی جواب نہیں دیا-پھر فون آیا-" "ہیلو!" لیکن گہری خاموشی-جنّت نے اس نامعلوم فون پر انگلیاں ہلائیں،"فرمائے!"

      کوئی جواب نہیں!

      "مبارک!"

      تھینکیو!"

      کچھ انتظار کے بعد فون ڈسکونیفکٹ ہو گیا-

      جنّت کچھ پلوں تک موبائل کو دیکھتے رہنے کے بعد اپنی ماں کے کمرے میں آ گیی-اس وقت وہ اپنی ماں سے لپٹکرسکوں سے سونا چاہتی تھی-لیکن اسکی آنکھوں سے نید دور جا چکی تھی اور ابّو یعنی نسیم انصاری آنکھوں میں  ٹہلتے نظرآ نے لگے تھے-اپنے ابّو کو دیکھتے دیکھتے اسکی آنکھیں بھر آییں اور وہ سبکنے لگی!

      صابرہ نے جنّت کی طرف کروٹ لیکربیٹی کو چوما،"سو جاو بچچے! آنکہہ  سے ٹپکا آنسولوٹکر گھر نہیں آتا ہے-سعدیہ بھی سو چکی ہے، تم بھی سو جاو !"

      "اور آپ ....اپ کب سوینگین  

      "تم سو جاو بیٹا - ابھی ماں نہیں بنی ہو- جوان بیٹی جب ماں کے ساتھ لیتی ہے تو ماؤں کی راتیں جاگنے لگ جاتی ہیں-"جنّت ماں کے سینے سے لپٹکر سبکتے سبکتے سوجاتی ہے-

---------------

اندراپرم، غازی آباد، اتر پردش (بھارت) 

                                              *************  

 


मंगलवार, 17 अक्टूबर 2023

Urdu Afsana JANNAT/Dr,. Ranjan Zaidi جنّت ڈر. رنجن زیدی ______________قسط ( 2 )

                                                    https://kathaanantah.blogspot.com/2023/10/2.html

قسط  ( 2 )
   افسانہ 
جنّت 
ڈر. رنجن زیدی
______________
  _Urdu Afsana JANNAT/Dr,. Ranjan Zaidi _____________
       نسیم انصاری نے بیٹھک میں انھیں بٹھاتے ہوے کہا،"وقت کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں بھائی دلاور،جو وقت بیت گیا، اس وقت کو گزرنا ہی تھا-ہر نی صبح کوہر دن آنا ہی ہوتا ہے-آپ غریب خانہ پر آے، میرے لئے یہی صبح ہے، خوش آمدید! تشریف لایں-"
      "لگتا ہے کہ  تمہیں میرے جیل جانے کابہت صدمہ ہے، لیکن مجھے بلکل نہیں ہے- پھر بھی میں اس پر سے  پردہ اٹھا سکتا ہوں -" جھینپتے ہوے دلاورانصاری  نے کہا اور نسیم انصاری کو گلے سے لگا لیا-" نسیم میاں، لمحے خطا  کرتے ہیں ،  صدیاں سزہ بھگتتی ہیں-اسے یاد رکھو- کسی مفککر نے اچّھی بات کہی ہے-بادشاہ غلطیاں کرتے تھے لیکن، نسلیں مذاق اڑاکر  قومیں لنچنگ کرتی ہیں- ہماری صدی کو بھی سزا بھگتنی ہے- کچھ ایسی ہی سزا مجھے بھگتنی تھی، اور میں نے بھگتا- مدّت بعد تمہیں دیکھ کر بہت اچّھا لگ رہا ہے؟" 

      سکون کے لمحوں میں نسیم کی  بیوی صابرہ بی نے خاطر مدارات کی میز سجا دی- پوچھا، "سلمان میاں تو اب بڑے  ہو چکے ہونگے،  آے ہیں کیا بھابھی؟"
     بلقیس انصاری نے جواب دیا، "وہ بھی آینگے- ابھی تو ہملوگ ہی آے ہیں-" 
     دلاورانصاری نے  صابرہ بی کو مخاطب کرکہا،" وہ تو کافی وقتوں سے کناڈہ  میں ہیں- یہ بھی الله کا معجزہ ہے-جس رات سی بی آی  نے میرے دیللی والے مکان میں چھا پا مارا ، اسس سے چند گھنٹے قبل  سلمان فلائٹ سے کناڈہ کے لئے جا چکے تھے-  میری گرفتاری بعد میں ہوی- سارے حالات بتاونگا، تھوڑا سانس لینے دو،  پانی-وانی  پی لین!" 
      "ہاے الله! ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلا- آتی ہوں.بھابھی آپ آئیے نہ میرےساتھ  .باورچیخانے کی طرف- وہیں چاے بھی بناینگے اور بات بھی کرتے رہینگے-"
*****
      "ہاے آپا، ایسا؟" جیل، پولس کے تصوّر سے ہی صابرہ بی  کے جسم میں ارتعاش پیدا ہو گیا تھا- ا" آپا  آپنے تو خبر تک نہیں دی-"  آئ بی کا چھپاپہ، پولیس.سیی بی ائی ...کیا ہو گیا تھا- میں آپا کانپ رہی ہوں- چھو کر دیکھئے، پانی چھلک جاےگا، آپ چاے....."
      "ہٹو، تم ادھر بیٹھو! میں چاے کآفی بناتی ہوں-ویسےاب کچھ ہے نہیں- جو ہونا تھا ، ہو چکا ہے- بتانے کی بات نہیں ہے لیکن تم میری سہیلی ہی نہیں، چھوٹی بہن کی طرح بھی ہو-تم سے چھپا ہوا بھی کیا ہے- تم جانتی ہو کہ تمہارے دلاور بھائ کے سیاسی رسوخ بہت زیادہ ہیں- انکی تو بزنس میں بھی سیاست ہے- سیاسی نیتاوں کا بلیک منی دنیا بھر میں ادھر سے ادھر ہوتا رہتا ہے- تمہار بھائی کی  ان سب سیاسی لوگوں میں اچھی امیج ہے- 
      اب ہوا یہ کہ مخبری یا سازش کے تحت  کسی نیتا کا پیسا پارٹی فنڈ میں کم اور ودیشی بینک میں زیادہ پہنچ گیا- جو ھوا اسے تو  ہونا ہی تھا، رات کو ہی گھر میں ریڈ پڈ گی-اس رات صاحب کافی پیسا لیکر گھر اے تھے- کچھ کبوتروں کو اڈا دیا گیا، کچھ پیسا اگلے دن ودیش پہنچانا تھا -- گھرمیں بس وہی پیسہ تھا- رات کو ہی ریڈ پڈ گیی- تمہارے بھائ یعنی صاحب کو پولیس نے اریسٹ کر لیا- وہ 3 مہینے تک جیل میں رہے-مقدمہ چلا، سزا ہوگی- پھر ضمانت ہو گی- اب یہ تو  ایک کاروبار ہے-اس  میں ہر میمبر 'پب' ہے پب مانے ایسے لوگ جو  پولیٹیکل بجوکا کے نام سے جانے جاتے ہیں، پب کہلاتے ہیں-یہ دنیا بھر میں پھیلے ہوتے ہیں..مینس----چھوڑو...جانے دو -"
      " پھر کیا ہوا؟"
      "کیا ہوتا بہن !" بلقیس انصاری نے کہا، "نیتاؤں کا معاملہ تھا، نیتاؤں میں نپٹ گیا. وہاں کی پولیس عزت کے ساتھ ایک دن گھر پہنوچا گی-اندھیروں نے کہا، اندھیروں نے سنا، اندھیروں میں بات گم ہو گی-  ہم بجوکا تھے، ہیں اور آگے بھی رہینگے-لیکن  سلمان کو ہم نے بجوکا نہیں بننے دیا-  وہ ایک کامیاب انڈسٹریلسٹ اور کی انٹرنیشنل کمپنیز کا سی ای او ہے-چلو!---لمبا انٹرویو ہو گیا- اب چاے کے برتن لے چلو!"
****** 
        "بس، اتنی سی کہانی تھی-" ڈایننگ میں بیٹھے دلاور انصاری نسیم میاں کو اپنی آپبیتی سنا رہے  تھے،" لیکن مجھے پارٹی کے آدیش پر ایک لمبی مدّت کے لئے نائجیریا میں جاکر رہنا ہی نہی، بلکہ بسنا بھی پڑا-" چاے سپ کے دوران بھائ دلاور نے کہا، "ایک خترنآ ک  ملک، کبھی بھی سینے میں گولی اتر سکتی تھی، لیکن رہنا پڑا-وہاں کی جیل میں بھی رہے- "ہماری طرح بہت سے لوگوون کو غیر ملکوں میں اپنے ملکوں کا پیسہ پھیلانا پڑتا ہے-جیل بھی جانا پڑتا ہے- وہاں نیتاوں کی انسڈسٹریس چلتی ہیں-  نایجیریا میں کتنے غیر ملکیوں کا بلیک منی  باھری بینکوں میں ہم جیسے لوگ آپریٹ کرتے ہیں-جالی کمپنیوں کا جال ہے- جا لی نوکریوں کی بھیڈ ہے- رسک الگ- ایسے میں بیگم صاحبہ کی خواہش ہویی کہ یہاں سے دبئی نکل لیتے ہیں- لیکن اپنے ہی ملک میں ایرپورٹ پر پولس نے پکڈ لیا اور ایک لمبی جیل ہو گی-اب بس، الله کی عبادت کرنا ہے اور سلمان کے بچچوں کے ساتھ عمر گزارنی ہے...."    
      بلقیس نے بتایا کہ اسی دوران ہمیں کنڈہ  جانا پڑا اور سلمان نے ہمارے لئے ایک کوٹیج خرید کرتیار کروائی-اس کو بیچ کر اپنے وطن لوٹے  تو گھر کی یاد آگئ-اپنے یاد آگئے -تم لوگ یاد آگئے  اور ہم نے اپنے آبائی مکان 'خیابان' کو رینوویٹ کرانا شروع کرا دیا- اب  دیکھ لو تم لوگوں کے بیچ میں ہوں-اور میں اب کہیں نہیں جا رہا ہوں-"
******           
      " ماشاللہ، کیا بیانیہ ہے...." نسیم نے گہری سانس چھوڑی-کہا، " کمال کی سٹوری ہے تمہاری بھائی دلاور-لیکن دلاورانصاری نے کہا، "پہلے اپننی کلائی دکھاؤ..." 
     جیسا کہ  پہلے بتایا جا چکا ہے کہ دلاور نے ںا نکور کے بعد بھی نسیم میان کی کلائی پر قیمتی گھڈی باندہ دی- "..پورے 32 ہزار کی ہے میاں-" بھائی دلاور نے کہا تونسیم نے بیوی صابرہ کو معنی خیز نظروں سے دیکھا اور خلہ میں دیکھنے لگے-بات مذاق میں ا ڈ گی،" بہت مہنگی ہے، اتار لو،" نسیم نے اس طرح سے کہا کہ  سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے.-  
******
    مارکیٹنگ کے نظریہ سے  ایک بڑے سے مال میں بلقیس انصاری  جنّت اور سعدیہ کو اپنے ساتھ لے گین- گھر میں دعوت تھی تو صابرہ اپنے گھر میں بہت مصروف نظر انے لگیں- مآ ل میں بلقیس ایک بڑے مہنگے 'کیفے کیفے' میں بیٹھ کربچچیوں کو اینجواے کرانے لگیں-بلقیص کے ساتھ سعدیہ بہت خوش نظر آتی تھی -وہ سلمان کی باتیں بڑے غور سے سنتی تھی-"میرا سلمان،  انٹرنیشنل ریڈ کارپٹ  اف انڈیا لیمیٹڈ کا مالک ہے " بلقیس نے پان کا پتہ داڑھ میں دباتے ہوے کہا، "انکے عہدے اورانکی قابلیت نے ہمارے قد اور حیثیت کو  بلندی پر پہنچا دیا ہے-سعدیہ کو تو میں نسیم اور صابرہ سے مانگ کر گود لے لونگی اور ------اور! آگے دیکھتے ہیں-- بس  اور کیا چاہیے.. الله نے سب  کچھ تو دے دیا ہے..گھوڈہ گاڑی، نوکر چاکر، دیس-بدیس.....'انہوں نے کہا، "اپنی جنّت کو آج مین ایک  قیمتی ہیرے  کی انگوٹھی دونگی...اگلے منڈے کو  اسکا جنمدین بھی تو ہے....ہے نہ؟"
      "اوہ مای گاد ! آپ کو میرا جنم دن یاد ہے؟ لیکن مین تو...."
      "میں نے صابرہ سے پتہ کر لیا تھا- ہوں نہ میں سمارٹ ! دیکھلو ! چلو، مینوسا ین کرو، پھر گھومتے  ہیں- پیٹ پوجہ بھی تو ضروری ہے، کیوں سعدیہ- جنّت تو گونگی ہے، کچھ بات ہی نہیں کررہی ہے -ہے نہ سعدیہ،"
      "آنٹی، آپ میری مممی جیسی نہیں ہین - بہت لڑتی ہیں مجھسے-آپ کتنی اچّھی ہیں..."
      "وہ  تو مین ہوں! جلدی اوکے  کرو یار!  تم بھی کچھ بولوجنّت-یاد ہے تمہیں- سلمان اور تم دونوں میرے پاس آکر ہوم ورک کرتے تھے- کتنےکیوٹ ھوا کرتے تھے تم دونوں. آج بھی کوئی دیکھےتو-"
      "دکھائے نہ آنٹی-آپکے البم میں بہت سے فوٹو سیو ہیں- دکھائے نہ پلیز...پلیز...  'سعدیہ نے زد کی تو جنّت نے اسکی کلائی دبا دی-  
      "اوہ! بدمعاش، سعدیہ کی بچچی، میری ویڈیو البم بھی کھنگال ڈالی-چل گھر، پٹائی کرتی ہوں- جنّت، یہ تو لومڑی ہے- کتنی ہوشیاری سے میرا موبائل کھنگال ڈالا اور ہم پتہ ہی نہیں کر پاے....ٹھیک ہے، پہلے کچھ اچّھی اچّھی چیزیں کھا لیتے ہیں-ویٹر، بچچیوں سے پوچھکرجلدی کچھ اچّھا سا لیکر آو-" پانی کا گھونٹ پی کر بلقیس نے کہا- "سعدیہ، تمہیں سلمان کیسے لگے، کان میں بتانا- "
      "کیا بات ہے آنٹی، وہ تو ہیرو کی طرح ہیں- میں انسے شادی کر سکتی ہوں- بائی گوڈ! "
      "اور جنّت؟ کان میں پوچھو، اسکی چوائس کیا ہے؟"
      جنّت نے سن کر پلکیں جھکا لیں- دھیر سے کہا، "اچّھے ہیں-"
      "آنٹی مینے کہ دیا کہ  میں  ریڈی ہون  ، بٹ با جی اس ناٹ ........." کہکر وہ آئسکریم پارلر کی طرف دؤڈ گی- 

      " میری بچچی، میرے چاند کا ٹکدہ..میری جنّت ! ایک بات کہوں؟"
      "کیا ہے چچی-" جنّت بلقیس کی گود میں سر رکھکر بولی،"اتنا پیار مت کیجئےچچی، میں اب بڑی ہو چکی ہوں- میں تو اب آپکی ہی ہوں- میں نے منا تو نہیں کیا- کوئی اور خوبصورت  مصال دو نہ چچچی ،" جنّت نے بلقیس کے کان میں پھسپھساتے ہوے کہا  چاند پر تو اپنا راکٹ اتر چکا ہے- کوئی اچّھا سا ستارہ لاؤ نہ میرے لئے-"
      "میری بچچی تو خود ستارہ ہے..."بلقیس انصاری نے کہا، پھر کان میں پھسپھوساین،"تجھے تو میں نے سلمان دے دیا ہے -...."
      "چچچی!"جنّت اٹھکرایسے بھاگی جیسے اسکے سارے کپڑوں میں بیربہوٹیاں رینگنے لگ گی ہوں....ایک نہیں، دو نہیں، سیکڑوں....'جا بیٹا ، آج سے تو میری ہوئی-' 
 
       "یہ تو.شرماکر بھگ گئی .ایسا .کیا کہ دیا میں نے ...؟" بلقیس نے اپنےاپ سے پوچھا-جواب تھا، "وہی جو اس عمر کی بچچیاں سننا چاہتی ہیں-" نسیم نے کمرے میں قدم رکھتے ہوے کہا-  بچچے ایسے ہی ہوتے ہیں..آ پنے  ہی کہا تھا بھابھی!"
      "اتنی حسین لڑکی میری جنّت ہوگی، میں نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا، کیا شان خدواندی ہے. ھم نے  کہاں کہاں نہیں ڈھونڈھا نسیم  او بیٹھو!آج میں بہت خوش ہوں"- ...،جذباتیت میں ڈوبی بلقیس انصاری مانو اپنے آپسے باتیں کرنے لگی ہوں،"  سلمان کی قسمت کا ستارہ تواس برج میں چھپا ہوا  تھا- الله ہو اکبر....نسیم انصاری، دیکھ --دیکھ  قسمت  مجھے پھر تیری چوکھٹ پہ لے آئی ہے-  کہاں لیکر آ گی میرے ربّ، مرحبہ،"
      "لیکن ہوا کیا آپا بی،...." صابرہ انصاری حیران-پریشا ن-جلدی سے گلاس میں پانی لے آییں-"آپا بی، پانی لیجئے---"

      جنّت اپنے کمرہ میں پہونچکر خود میں سمٹکرسکوڈکر اپنےآپ میں اندر ہی اندر دھنسی جا رہی تھی-'ہائے الله، کیا ہونے والا ہے- مجھے پیپر تیار کرنے ہیں، ایک ایک پل کتنا قیمتی ہے اور یہ سلمان------؟ جنّت نے آنچل سے اپنا سر پھر سے ڈھک لیا-" اسے لگا جیسے وہ بلقیس کے سوالوں کے جواب دے رہی ہو،  "جی چچی، پڑھائی میں ابھی تک گولڈمیڈلسٹ رہی ہوں -سعدیہ بھی بہت پڑھتی لکھتی ہے، زہین ہے..میں آئی.اے.ایس. کی تیاری کر رہی ہوں. اس بار امید بہت ہے...دیکھئے آپ لوگوں کی دعا یں  رہیں تو........."
      "ضرور کامیاب ہوگی بیٹی... تجھپر الله کی مہر ہو- کمپٹیشن میں ضروربیٹھنا- کامیابی آگے کی بات ہے-  تعلیم  کی اھمیت جب تک  ہم نہیں سمجھیںگے ، قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی- اس اشو پر میں کیا، تمہاری چچی بھی تمہارے ساتھ نظر آیںگین-"
      "جی چچہ ،"  جنّت ہوا کے جھونکے کی طرح بیٹھک  سے باہر نکل گئی سلامت رہو بچّچو!"
*****
      بلقیس خود کو بہت کمزور پانے لگی تھے- 'الله، یہ مجھے کیا ہو گیا ہے؟ جنّت نے مجھ پر کون سا جادو کر دیا ہے-کیا میں اسکے بغیر اب رہ پاونگی؟ 
      "کیوں ، کیا ہوا؟ " صابرہ بی یکایک چونک گیئں...کوئی نظر آ گی کیا؟"
      "قسمت میں جنّت ہو تو دوزخ کا تصوّر کون کریگا بہن ؟ ، منا مت کرنا، اب ہم جنّت کو ہی اپنی بہو بناینگے. یہ ہم دونوںمیں بیوی  نےطے کر لیا ہے کیونکہ  ایسی جوڈی کے لئے جنّت ہی ہو سکتی ہے ..."
      "وہ آئ اے یس کی تیاری کر رہی ہے...بھابھی، مشکل ہو جاےگی -  اسکے ابّو شادی کی اجازت نہیں دینگے- آپ لوگ خود ان سے باتیں کرکے دیکھ لیں....سلمان تو اپنا ہی بچچا ہے- ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے..."
**
      نسیم میاں بھی دلاور کے ساتھ  مسجد سے آکر باہر کے کمرہ میں بیٹھ گیے- جھک کر اپنے بریفکس سے ایک ہیرے کی انگوٹھی نکالی اور صوفے کی میز پر رکھ دی--" صابرہ بی نے جھککر اسے اٹھایا ، دیکھا، بولیں، "اچّھی ہے..."
      "تو پہنا دوصابرہ بیبی  -" 
      بھابھی شرم سے لال اور بلقیص ٹھا کا  مارکر ہنس پڑیں- 

         "ہاے الله، کیسے شرما رہی ہیں با جی- دل میں لاڈدو پھوٹ رہے ہیں-" سعدیہ پا لتھی مارے اپنی بڑی بہن جنّت کے بستر پر آسن جماے چھیڑ چہا ڈ کر رہی تھی- "ہمسے کچھ انسے کچھ ،ہے ہاے....شرم تو دیکھو!" سعدیہ نے اچھل کرناچ کے ساتھ گانا بھی شروع  کر دیا، سعدیہ تھرکنے لگی..."با جی، 'موری گونیاں ہے لال انار،جیجا جی انار دانہ.'...ہوے ہوے-"     "کمبخت ماری،" ہنستے ہوے جنّت نے ابھی پٹائی کے لئے تکیہ اٹھایا ہی تھا کہ سلمان کا تازہ فوٹو اچھل کر فرش پر آ گرا- سعدیہ نے کود کر فوٹو جھپٹ لیا-"اوح، تو اندر خانے یہ چل رہا ہے-اممی  کو بلاؤں؟"
    "مری، یہ فوٹو میرے تکیہ کے نیچے کیسے آیا، مجھے نہیں معلوم، تیری جان کی قسم! یہ فوٹو---لیکن سعدیہ کی مستی جاری رہی، "ساسو ہے جیسے روٹی کا بیلن ، اسپر سسر جی تھالی کا بینگن، آگ میں گھی نہ چھیڑکیو،جیجا جی انار دانہ...ہوے ہوے...."جنّت کواچانک  روتے دیکھ سعدیہ باجی سے لپٹ گی-"اچّھا، یہ آنسو پوچھ لو با جی، ہم مذاق نہیں کرینگے--""سعدیہ نے فوٹو دیکھتے ہوے کہا،"اچّھا ہے، مبارک ہو-مذاق بند- "    
    
    سعدیہ کے جاتے ہی جنّت نے اندر سے دروازے بند کرأینه کے سامنے پہلی بار خود کو دیکھا، موبائل میں تصویریں سجاین ، ڈرامہ کوئین بنکر ٹھوڈی ایکٹنگ بھی کی،"ٹھیک ہے میرے سرتاج، میںنے قبول کیا لیکن یار، دھوکہہ  مت دینا- سہیلیاں کہتی ہیں، خوبصورت مرد وفادار کم ہوتے ہینریٹنگ تو تمہاری بھی ہائٹ پر ہوگی- لیکن شادی کچھ جلدبازی میں نہیں ہو رہی ہے- ابھی تو.....  چلو دیکھتے ہیں-شکل تو تمہاری بھی بری نہیں ہے-اور وہ مستی میں اپنے پرانے غلاف سے باہر نکلکر کمرے میں ڈانس کرنے لگی-" میرے محبوب-----اور پھر وہ کچھ سوچکر اپنے آپ سے شرما گی....  

     آخرکار،  جنّت کی شادی اسکی اپنی ایک شرط پر طے ہوگی-شرط تھی کہ  سول سروسز کا امتحان ختم  ہوتے ہی  وہ شادی کر لگی، انٹرویو ھوا تو وہ بھی دیکھ لینگے-
      لیکن اس بیچ بھائی دلاور نے اپنے ولا میں ایک گرینڈ پارٹی کا اہتمام اس نظریہ سے کیا  کہ اسمین سلمان شرکت کر سکے- دعوت خاص میں شہر کے کی معزز مہمانوں کو بھی   مدوع کیا گیا تھا جن میں کہ  ویپاری گھرانے بھی شامل تھے-
******
       دن تھا جنّت کے جنم دن کا- وہ اپنے ایڈمنسٹریٹو اکزامس سے ابھی فارغ ہی ہویی تھی کہ بھائی دلاور نے جنّت کی برتھ ڈے کا خیال کر دعوت خاص  کا احتمام کر دیا- اس میں قالین انڈسٹیز کے ٹایکون پی پی پانڈے اور ان کی پارٹنر شبھرا مالویہ کو بھی مدوع  کیا گیا تھا-  شبھرا مالویہ اپنی دنیا میں بیحد سچچی اور ایماندار بزنس انٹرپینور مانی جاتی ہیں-سماج میں انکی کی فلاحی تنظیمیں کام کرتی ہیں-ایک بار وہ سیاست میں وزیربھی رہیں اور دو کالجز کی فاونڈر بھی -  انہوں نیں جنّت کو کی بار اسکی قابلیت اور ڈیبیت سیمینارز میں انعامات بھی دے تھے- جنّت کو دیکھکر انکا چونکنا غیریقینیی نہیں تھا، ملتے ہی وہ روکیں، پوچھتانچ کی- 
      "تمہاری قابلیت سے میں بہت مرعوب ہون- یہاں کیسے؟"                
      جیسے ہی بھائی دلاور کی نظر دور سےمادام  شبھرا پر پڑی، وہ تیزی سے شبھرا اور انکے شوہر کے پاس پہنچ گئے،'میم، یہ جنّت ہے- ابھی حال میں آئی ایس کوالیفایی کیا ہے، بس انٹرویو......"
      "جانتی ہوں-"تیوریاں چڑھاکر مادام شبھرا نے پوچھا-"بٹ، جنّت تو تمہاری بیٹی نہیں ہے؟ تمہارا تو بیٹا سلمان ہے- ابھی پچھلے دنوں میری اس سے وینکورسمیٹ میں ملاقات بھی ہوئی تھی-وہ بھی  بہت ہوشیار ہے- بہت جلدی اسنے چاند کو چھو لیا ہے-"
      "آپ سبکا آشیرواد ہے.یہ جنّت میرے دوست کی بیٹی ہے-"
      "اچّھے سے جانتی ہوں- کیا میں سمجھوں کہ  تم جنّت سے  انٹروڈیوس کروا رہے ہو مسٹر دلاور...؟."
      "ارے نہیں میم، میری کیا اوقات! جنّت اب میرے گھر کی رونق بننے والی ہے. سلمان سے ہم نے اسکا رشتہ طے کر دیا ہے..." 
      "اوہ مبارک!" پی پی پانڈے نے بیرے سے گلاس لیکر دلاور سے پوچھا،"بہت اچّھی ، ان ٹیلجینٹ بچچی ہے لیکن ....".انہوںنے انگریزی میں شبھرا سے پوچھا'، دلاور کے کتنے بیٹے ہیں؟ ایک تو سلمان ہے...."
      جنّت جانے کو ہوئی کہ تبھی دھماکہ ہو گیا-
      "جنّت، اسلام میں کتنی شادیاں ہو سکتی ہیں؟" شبھرا کے سوال نے بہتوں کو اپنے حصار میں لے لیا-"چار تک تو میں نے سنا ہے میم، اور پڑھا  بھی ہے..کچھ شرایت کے ساتھ---  " 
      "مسٹر دلاور،"سلمان کی اب اور کس کس سے شادی ہونے والی ہے؟ وینکورمیں ماریہ سارا تو ہم سے ملی بھی ہے، ہم نے ساتھ ڈنر لیا ہے- ایک بچچے کی ماں ہے وہ اور کنڈہ میں اسکا بھی گھر ہے- شاید اب تمہارا بھی وہاں گھر ہے- فرسٹ سیکٹرری رہے ہیں مسٹر جوسف فرنانڈیز- یہ ماریہ  انکی بیٹی ہے، اسکی گرینڈ پارٹی میں ہم بھی تھے،تم یہ....یہ سب کیا کر رہے ہو؟" یکایک وہ اکہڈ گییں اور انہوںنے پوری طاقت سے دلاور کے منہ پر زوردار تھپپڈ جڈ دیا- سارپارٹی درہم برہم ہو گی- لوگوں نے انکی دہہاڈ سنی،" بلڈی باسٹرڈ!"     
      "ممممم مجھے ...ننننہین معلوم میم ! میرے سلمان کی تو یہ پھلی ی شادی....."
      جنّت کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ گھومنے لگا تھا- عورتیں دوڑ پڑی تھیں-جنّت کی سہیلیوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا - 
      "یہ کیا بدتمیزی ہے،" شبھرا مالویہ نشے میں دہاڑنے لگی تھیں-انہوں نے بھائی دلاور کا گریبان پکڑکر جھجھوڑ دیا،"تم پہلے بھی فراڈ کر چکے ہو، مسقت میں کیا ہوا تھا؟ وہاں تو تم پر کیس بھی چل رہا ہے...تم بلڈی کریمنل  .بلڈی باسٹرڈ.....پولس کو کال کرو!'
اندراپرم ، غازی آباد، اتر پردیش یو پی   
(قسط  ( 3 ) /باقی آیند  )  
---000---     

शुक्रवार, 18 अगस्त 2023

एक फर्लांग का सफरनामा/ डॉ. रंजन ज़ैदीhttps://kathaanantah.blogspot.com/2023/08/blog-post_18.html

                                    एक फर्लांग का सफरनामा 
       सुश्री सोनिया गाँधी प्रधान-मंत्री नहीं बन पायेंगी. सुश्री सोनिया गाँधी जब प्रधान-मंत्री बन सकती थीं, ज्योतिषी स्वर्गीय राजेंद्र जैन ने मुझसे पूछा कि मैं लोगों को क्या बताऊँ? अपनी राय दो! चंद्रा-स्वामी को भी अपने महत्वपूर्ण हलके को अवगत कराना है, मैंने अपने पत्रकारिता के अनुभव, इंट्यूशन और सियासी-एनालिसिस के आधार पर बताया कि सुश्री सोनिया गाँधी प्रधान-मंत्री नहीं बन पायेंगी.  राजेंद्र जैन ने श्रीमती सोनिया की कुंडली मेज़ पर रखी, बताया, मेरा गणित भी यही बता रहा है, पर झिझक रहा हूँ. 

      मैंने तर्क से समझाया कि क्यों नहीं बन सकतीं! राजा ने चंद्रा-स्वामी को बता दिया कि कुंडली में राजयोग नहीं है. 'मामा' (चंद्रा-स्वामी का पीए) रात को पालिका केंद्र वाले ऑफिस में आये, और (बताया जाता है कि) ज्योतिषी जी को चंद्रास्वामी की तरफ से एक लाख रुपये मामा देकर लौट गए. तब मैं साप्ताहिक 'जनाधार भारती' का कार्यकारी संपादक हुआ करता था और ज्योतिषाचार्य राजेंद्र जैन पत्र साप्ताहिक 'जनाधार भारती' के संपादक.
                                                       
                                                          चर्चित पत्र-पत्रिकाएं
      'कथा-अनन्तः'  (वीडियो-न्यूज़ का साप्ताहिकी); हिंदी साहित्य की लोकप्रिय पत्रिका 'विश्व गाथा' अपने दसवें वर्ष में प्रवेश कर चुकी है, डाक से अंक आया तो औपचारिक रूप से पत्रिका को पढ़ने का अवसर मिला। साहित्य मनीषी, वरिष्ठ कवि-कथाकार, पत्रकार श्री पंकज त्रिवेदी इसके संपादक हैं, यही पत्रिका की पहचान है। 'साधना और ज्ञान-मार्ग' पर उनका अपना वैयक्तिक चिंतन है जिसे पढ़ा जाना चाहिए। सारांश यह कि, 'ज्ञानी ज्ञाता बहु मिले, 'पंडत' कवी अनेक, राम रटा निद्री जिता, कोटि मध्य एक।' सारांश यह कि 'ज्ञान-मार्ग पर चलते रहना ही जीवन का सार है।' 
       पत्रिका में पढ़ने के लिए अत्यंत ज्ञानवर्धक व अद्भुत लेख /आलेख हैं। सर्व-प्रथम 'राजस्थान के लोक-गीत' (जीतेन्द्र प्रसाद माथुर) को पढ़ना ज़रूरी है। शायद वह आलेख सतही दृष्टि से समझ में भी न आये लेकिन उसके शब्दों में कुछ 'कोड' हैं, हर कोड का एक इतिहास हैI शायद अजाने में लेखक ने इस जादू के पिटारे को (जो अलादीन के चिराग़ की हैसियत रखता है) साहित्य के कबाड़ में फ़ेंक दिया और संयोग से ढाई पेज का यह खज़ाना भाग्यशाली साहित्यकार-संपादक, कवि श्री पंकज त्रिवेदी के हाथ लग गया और उन्होंने उसे विश्व-गाथा में प्रकाशित कर दिया। 

      संयोग से वह भी इस रहस्य से अनजान थे कि ढाई पृष्ठ के इस कूट-पत्र में देश का ऐसा इतिहास छुपा हुआ है जो अनेक रहस्यों पर से परदे उठा सकता है, लोग विस्फारित नेत्रों से एक-दूसरे को देखते रह जायेंगे। इसके अध्ययन से जो महत्वपूर्ण जानकारियां मिलीं वह मूढ़ों की ऑंखें खोलने के समान हैं । इस आलेख में देश का अर्वाचीन भी है, प्राचीन भी। 

      जातियों-उप-जातियों, प्रजातियों के गमन, पलायन और देशज संस्कृतियों व जल, जंगल, ज़मीन की बोली और लोकगीतों का दर्द भी कानों में गूंजता महसूस होता है। बिच्छू के काट लेने पर पत्नी का पति से आग्रह कि वह उसकी मृत्यु के बाद पर-स्त्री से विवाह अवश्य कर ले ताकि उसे सांसारिक व समाजी कष्ट न हो। 
      
      राजस्थान के हाड़ौती क्षेत्र का लोक-गीत 'बिच्छुडो' इसका प्रमाण है। इसी तरह मारवाड़ के क्षेत्र में धुड़ला-पर्व पर गाया जाने वाला 'धुड़ला' लोकप्रिय गीत है,'घुड़लौ घूमै छै, जी घूमै छै।' जब महिलाएं यह लोकगीत गाती हैं तब उनके सिरों पर छेद वाला मिटटी का छोटा सा घड़ा होता है और उसमें एक दिया रौशन रहता है।

      इस तरह लोकगीतों में कुरजां, मोरिया, जैसलमेर का झोरावां लांगुरिया, हिचकी, सिथड़ें, भील स्त्रियों का गीत , कामड़, चिरमी आदि अनेक लोकगीतों ने स्वतः ही रहस्यों पर से परदे उठाये हैं और संकेत दिए हैं कि इस देश में और कितने देश बसे हुए हैं । शायद एक भारत में बहुत से गण, गढ़ की गढ़ैयों में छोटे-छोटे अनेक हिंदुस्तान और उनकी अपने-अपने क्षेत्र की हर 20 मील पर बदल जाने वाली बोलियां, कही-कहीं भाषाएँ, क़िस्से , लोकगीत, बयान, बैती, कथाएं कानों में शोर मचाने लगती हैं। 

      पत्रिकाओं की भीड़ में 'विश्व गाथा' अपने दसवें वर्ष में प्रवेश कर शायद एक नया इतिहास रचने का संघर्ष शुरू कर चुकी है, बधाई, आशीर्वाद भी`। 

      सुश्री निरुपमा सिंह की कहानी 'संजीवनी बूटी' और भाई सुशील स्वतंत्र की 'राम-रहीम हथकरघा' कहानियां पढ़ीं. दोनों की कहानियां पसंद आई. सात्विक-संबंधों में 'रिश्ते' कुटुंब-क़बीले और रक्त-गुण की पहचान ज़रूरी नहीं होती है. कहानियां भी खिड़की में जड़े 'कांच' की मानिंद लगीं जिनमें से झाँक कर हर पाठक एक दर्द की गली या ज़िन्दगी का बरसाती गलियारा देखने लग जाता है. दोनों को बधाई! 

       पत्रिका की 12 कहानियों में निरुपमा सिंह की कहानी 'सन्जीवनी बूटी', सुशील स्वतन्त्र की कहानी 'राम-रहीम हथकरघा स्तरीय कहानियां हैं. 

                                                                   वीडियो-बैठकें 
       'ख़ामोशी की नींव में .... / कहानी- रक्षिता; कच्ची भीड़ की मिटटी से गढ़ी बोसीदा बस्ती की निवासी एक नादान लड़की की यह द्वंद्वादात्मक कहानी है जो नए रोमांचित परिवेश में परवान चढ़कर कांक्रीट पर स्वतः ही फिसल जाती है और यहीं पर उसका लहूलहान होना ही तय हो जाता है. 
      
      यही त्रुटि कहानी की कमज़ोरी भी कमज़ोरी बन जाती है. समाज के अनेक कानूनों का उपयोग न किया जाना भी इसकी एक कमज़ोरी हो सकती है. चूंकि रक्षिता की यह पहली कहानी है. कमज़ोरियों के साथ ही सही, इसे क़ुबूल कर लिया जहाँ चाहिए. 
                             ज्योति : असम में इनकम टैक्स कमिश्नर
       खबर (स्टेटस न्यूज) अनाथ कन्या ज्योति, असम में इनकम टैक्स कमिश्नर हैं,  इस निष्ठुर संसार में सोबरन जैसे फ़रिश्ते और उनकी इंसानियत अभी ज़िंदा है. पड़ोस के देश में देखिये तो लोग रोज़ अपनों के ही सिर काटते रहते हैं. जेलों में बच्चियों और प्रतिभाओं के साथ हर रात बलात्कार करते हैं, घर उजाड़ते हैं, दीवारें फलाँगकर इज़्ज़तें और घर लूटते हैं, और दुनिया चुप है.
 
      हमारे देश में भी हर जगह देवता नहीं हैं, लेकिन दूत भी हैं. सोबरन जैसे फ़रिश्ते हर क़ौम में हैं. ग़ज़िआबाद के एक मुस्लिम परिवार ने एक हिन्दू लड़की को पालपोसकर बड़ा किया, पढ़ाया लिखाया, हिन्दू परिवार में ही उसका विवाह किया. 

      हमारा देश ऐसा ही है,  देश में अगर फ़रिश्ते हैं तो वहां दानव भी हैं, राक्षस भी. लेकिन असम के तिनसुखिया जिले के सब्ज़ी-फ़रोश भाई सोबरन जैसे देवताओं की भी कमी नहीं हैं. 

      एक लावारिस बच्ची जो 25 वर्ष घूरे पर पड़ी ज़िन्दगी  और मौत से जूझ रही थी, कुत्ते उसे नोच रहे थे, कि एक सब्ज़ी बेचने वाले फ़रिश्ते की नज़र जब उस बच्ची पर पड़ी तो वह व्यक्ति उसकी तरफ दौड़ पड़ा और कुत्ते भाग गए. 

      उस बच्ची को उसने दिन-रात जागकर, उसका इलाज कर, पुलिस से मांगकर उसे गोद ले लिया. statusnews.in की खबर के अनुसार अब वह असम में इनकम टैक्स असिस्टेन्ट कमिश्नर के पद पर कार्यरत है वही. अनाथ कन्या  statusnews.in के अनुसार अब 25 साल की हो गई है। 2013 में ज्योति ने कंप्यूटर साइंस से ग्रेजुएशन किया और 2014 में असम पब्लिक सर्विस कमीशन में सेलेक्ट हुईं। वो कहते हैं न, 'जाको राखे साइयां, मार सके न कोय...."   /- https://kathaanantah.blogspot.com/2023/08/httpskathaanantahblogspotcom202308blog.html
रंजन ज़ैदी/zaidi.ranjan20@gmail.com,https://kathaanantah.blogspot.com/2023/08/blog-post_18.html

बुधवार, 16 अगस्त 2023

मंगलवार, 31 अक्टूबर 2017

मुंशी प्रेमचंद : नव-मूल्यांकन / डॉ. रंजन ज़ैदी

 नौबत राय यानि प्रेमचंद. हिंदी-उर्दू साहित्य के आकाश का  बुझने वाला एक ऐसा सितारा जो साहित्याकाश में हमेशा जगमगाता रहेगा

      प्रेमचंद की दैहिक रूप से मृत्यु अक्तूबर 8,1936 में हुई थी किन्तु कथाकार प्रेमचंद तो  आज भी जीवित है. दार्शनिक दृष्टि से देखें तो कहेंगे कि देह और कर्म में अंतर होता है.वैयक्तिक देह नश्वर है,उसके कर्म जीवित रहते हैंकर्म के दर्शन को मानें तो आज भी हम प्रेमचंद  के उपन्यासों (सेवासदन से लेकर मंगलसूत्र तकको अपनी स्मृति के वाचनालय में सहेजे हुए हैं.

     यहां महत्वपूर्ण बात यह है कि प्रेमचंद की पत्नी शिवरानी देवी* की भूमिका प्रेमचंद के जीवन में अविस्मरणीय है क्योंकि वह उनकी रचनाओं का एक ऐसा पात्र-पिंड हैं जो अपने विस्फोट से ऐसे पात्रों को जन्म देता रहा जो औपन्यासिक फलक पर फैलकर कालजयी हो गएवे भूमिकाएं जो पात्रों के रूप में शांतासुमन निर्मलामनोरमासोफियासकीनाधनिया और मालती के नामों के साथ उपन्यासों में निभाते हुए किसी किसी तरह से जीवित रहीं, वे समय और काल के गर्भ में जीवंत हो गयीं. जब-जब उनका पुनर्जीवन हुआ  तब-तब वे अंकुरित हुईं,  सामाजिक परिवेश में अपनी-अपनी भूमिकायें निभाने में सक्रिय हो गईं.  प्रेमचंद के लेखन की यही सबसे बड़ी विशेषता हैशिवरानी देवी ने अपने समाज और निजी-जीवन में जो घर निर्मितकर पति मुंशी प्रेमचंद को दिया था, वही घर पति की साहित्यिक रचनाओं का घर बन गया जिसमें उनके पात्रों में पात्र कृष्ण चन्द्र ने जन्म लियाअमरकांत और रमाकांत, जालपा वहीं पैदा हुयेगोबर जैसे पात्र की भूमिका को भला कौन भूल सकता है.

      उस घर में आध्यात्मिकता के भ्रम का निवास पूर्वत बना हुआ था, किन्तु इस घर की परम्पराएं कबीरपंथी थीं और रचनाएँ तत्कालीन महाजनी साहित्य-धारा से भिन्न थीं. सांस्कृतिक विरासत में भी बदलाव जन्म लेता जा रहा थाजागरण (जनवरी 15, 1934) के सम्पादकीय में प्रेमचंद ने लिखा,'संस्कृति अमीरों का, पेट भरों का, बेफ़िकरों का व्यसन है. ...यह संस्कृति केवल लुटेरों की संस्कृति थी जो राजा बनकर, जगत-सेठ बनकर जनता को लूटती थी... साम्प्रदायिकता सदैव संस्कृति की दुहाई दिया करती है। ..(वह) सिंह की खाल ओढ़कर आती  है.

     
प्रेमचंद का विचार था कि विश्व की आत्मा के अंतर्गत ही राष्ट्र या देश होता है और इसी आत्मा की प्रतिध्वनि है 'साहित्य'.  वह हिन्दू राष्ट्र  निर्माण करने के पक्ष में नहीं थे. * 

        प्रेमचंद के समय में लिखे गए साहित्य की हिन्दू स्त्रियां बहनें हैंबीवियां हैंनंदनें  हैंसासें हैं और मुस्लिम औरतें वेश्याएं हैंईसाई कुलटाएँ हैं, बात आगे बढ़ी तो हिंदी के लेखक भी कालांतर में हिन्दू हो गए, मुस्लिम पात्रों  को अछूत बनाकर बाहर का रास्ता दिखा दिया गया. जिन्हें रखा, उन्हें कोठों से उठाया, ईसाइयों को पतित पात्र  बनाकर रख लिया.*

      तत्कालीन राजनीतिक और सामाजिक परिवर्तन के बीच परिस्थितियां बदल रही थीं. इसका ज़िक्र प्रेमचंद  ने मुंशी दयाराम निगम को भेजे अपने एक पत्र में किया था,'उर्दू में अब गुज़र नहीं है. यह मालूम होता है कि बालमुकुंद गुप्त मरहूम की तरह मैं भी हिंदी लिखने में ज़िन्दगी सर्फ़ कर दूंगा. उर्दू नवीसी में किस हिन्दू को फैज़ हुआ जो मुझे हो जायेगा. * इसके बावजूद तत्कालीन बदलती विचारधारा ने जब कथाकार प्रेमचंद का क़लम थामा तो हिन्दू, मुस्लिम पात्रों ने उन्हें घेर लिया और खुशनसीबी यह कि वह अपने पात्रों से कभी दूर नहीं जा सके. उर्दू से उनका रिश्ता कभी टूट नहीं सका.  यह था प्रेमचंद को महान बनाने वाला वह जज़्बा जिसने उनके व्यक्तित्व को विशालता के सर्वोच्च शिखर तक पहुंचाने में संकोच से काम नहीं लिया.
  
       आचार्य चतुरसेन  शास्त्री  ने एक पुस्तक लिखी'इस्लाम का विष-वृक्ष'. 
      प्रेमचंद को पुस्तक पढ़कर बहुत बुरा लगा.  जैनेन्द्र को पत्र लिखा,'इन चतुरसेन को क्या हो गया है कि  'इस्लाम का विष-वृक्षलिख डाला. उसकी एक आलोचना तुम लिखो और वह पुस्तक  भेजो. इस कम्युनल प्रोपेगंडा का ज़ोरों से मुक़ाबला करना होगा और यह ऋषभ भला आदमी भी इन चालों से धन कमाना चाहता है.*

      यह सच है कि मुंशी प्रेमचंद पीएन ओक के हिंदुस्तान के समर्थक नहीं थे, वह थे नए जनतंत्र के समर्थक. उनके साहित्य में हमें ऐसा ही जनतंत्र दिखाई भी देता है. लेकिन क्या तत्कालीन साहित्य के मठाधीश दिग्गज ऐसे हिंदुस्तान की रचना में दिलचस्पी ले रहे थेहिंदी प्रदीप के मई 1882 के अंक 8 में धुरंधर हिंदी के विद्वान साहित्यकार  महावीर प्रसाद द्वेदी लिखते हैं'कचहरियों में उर्दू अपना दबदबा जमाये हुए है. अपने सहोदर पुत्र मुसलमानों के सिवा हिन्दू जो उसके सौतेले पुत्र हैं, उन्हें भी ऐसा फंसाये रखा है कि  उसी के असंगत प्रेम में बंध ऐसे महानीच निठुर स्वभाव हो गए हैं कि अपनी निजी जननी सकल गुड़ आगरी नागरी की ओर नज़र उठाये भी अब नहीं  देखते.'

      हिंदी के साहित्यकार श्रीधर पाठक भला कैसे चुप रहते, लिखा'हिंदी हिन्दुओं की ज़बान, बेजान. उर्दू से कटाये कान. कमर टूटी हुई, लाठी पुरानी हाथ मेंबे मदद, बे आक़ा. मुसीबतज़दा, जगह-जगह मारी फिरती है. शेर कहते हैं                
अफ़सोस सद अफ़सोस कि हिन्दू ये बेशुमार
उर्दू   के  बद-फरेब    से   करते   गिला  नहीं
      इसपर पंडित प्रताप नारायण मिश्र ने फड़ाक से एक  नारा दिया--
      जपौ निरंतर एक जबान,
      हिंदी    हिन्दू   हिंदुस्तान.
                                                                            AUTHOR 

https://kathaanantah.blogspot.com/2017/10/blog-post.htmlhttps://kathaanantah.blogspot.com/2017/10/blog-post.html

___________________________________________________   
*शिवरानी देवी की पुस्तक : प्रेमचंद घर में (आत्माराम एंड संस दिल्ली,1956 )
*भारतेन्दु काव्य की हिंदी कविता में जातीयता, सुधा वर्ष 3,पृ। 670 -675
*संस्कृति की पुकार केवल ढोंग है, नीरा पाखंड. इसके जन्मदाता भी वही लोग हैं जो साम्प्रदायिकता की शीतल छाया में बैठे              विहार करते हैं
नयी कहानी की भूमिका : कमलेश्वर पृ.22 -23 ,पृ० 46 
प्रेमचंद, चिट्ठी-पत्री , भाग 1, हंस प्रकाशन, इलाहबाद 1962  

प्रेमचंद, चिट्ठी-पत्री , भाग 1, हंस प्रकाशन, इलाहबाद 1962