Dr. Z. A. Zaidi, Ranjan Zaidi/
گیٹ پر پہونچکر ہنومان سنگھ راجپوت کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا-قتاروں میں اسکولی بسیں لگی ہوئ تھیں- .میلے کا سا ماحول تھا- اسکولی وردی میں جھمجھماتے بچچے، کاروں کی قطاریں، ان میں کہیں کونے میں کھڑی راجپوت کی موٹرسائکل، گیٹ سے لگے ریسپشن پر کاجل نے ایڈمیشن فارم کی رسید دکھاکر انٹرویو کا نمبر لیا اور لمبی لائیں سے باہر نکل آئ-
" اب چلو بھی!" کاجل نے اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑکر اپنی طرف کھینچا-ہم پیرنٹس کا بھی انٹرویو ہوگا- ہم سے بھی دنا دن سوال کے جا سکتے ہیں-زیادہ بولنے ہی ضرورت نہیں ہے- -پکڑے جاؤگے- انگلش اسکول ہے یہ- یہاں ڈسپلن بہت ہے- تم کھلے اسکول کے سٹوڈنٹ رہے ہو....ہماری پاٹھشلا یں ریلوے اسٹیشنوں پر سجتی تھیں-یہاں تو بڑے لوگوں کے بچچے پڑھتے ہیں- "
"اورتم تو جسے سیدھے دھوبی گھاٹ کے کانوینٹ لانڈری سے دھل دھلاکرنکلی ہو-"
"پاپ! لڑنے کا نی!" عاشی نے پیار سے جھڑکا- "یہ اسکول ہے-بولنے کا نیی ..."
"سوری بیٹا! گھبرانا نہیں -میں ہوں ںا ..."
"وہ تو ہیں- میرے پاپا ایسے ویسےتھوڈے ہی ہیں...!" عاشی کہکر خود ہی ہنس پڑی اورساتھ ہی کاجل اور ہنومان سنگھ بھی دونوں ہنس پڑے- دونوں نے شاہ بلوط کے درخت کے نیچے ٹھہرکراپنی بیٹی کو اوپر سے نیچے تک دیکھا-کہیں بہت بھیتر محبّت کا طوفان عمڑہ اورہنومان سنگھ راجپوت نے بیٹی کو گود میں اٹھا لیا-
سامنے بڑا سا گیٹ تھا، اسکے سامنے ہی بڑا سا ریسپشن بھی تھا جسکے سامنے لوگوں کا جممہ غفیر تھا- اورادھر ادھرلوگ دوڑ بھاگ رہے تھے-آرچ گیٹ پر'نیوں ساین' کا باکس ٹنگا ہوا تھا جسکے سکرین پرنمبر نمودار ہوتےرہتے تھے-
ہنومان سنگھ نے کاؤنٹر پر ایک انولپ جمعه کیا اورکاؤنٹر سلپ لیکر اپنی جگہ پر اکر بیٹھ گیا-تھوڈی دیر بعد ریسپشن کاؤنٹر سے ایک سلپ دیکرکاجل کو بتایا گیا کہ نیون سایں پر اپنے نمبر کا انتظار کریں- سامنے پتھر کی جو خالی بینچ پر تینوں بیٹھے ہوے تھے وہیں پر ا سکول کا ایک سیوادار آیا اور اسنے راجپوت پریوارسے چلنے کے لئے کہا تو سبھی اپنے پرنسپل کے روم کی طرف چل دے-
سیوادار نے پرنسپل کے چیمبر کا دوازہ کھولا اور کاجول کے ساتھ عاشی و ہنومان سنگھ کو اندر کر دروازہ بند کردے- عاشی، ماں کے ساتھ چل کر ویٹنگ لاؤنج میں بیٹھ گی- پرنسپل میڈم ابھی کسی اورسے باتیں کر رہی تھیں- شاید کوئی انٹرویو چل رہا ہوگا - جیسے ہی وہ فیملی گیی، میڈم اٹھکر کسی دوست کے ساتھ اپنے رٹایرنگ روم کی طرف چلی گئیں- اسی بیچ ایک بڑی عمر کا شخص پرنسپل کے رٹایرنگ روم سے باہر نکل کرکاجل اور ہنومان سنگھ کے بہت پاس سے ہوکر باہرکی طرف نکل جاتا ہے- ہاتھ میں چھڈی،گنجا سا سر،بھری بھری سفید مونچھین، روعبدارچہرہ-
"اسے کہیں دیکھا ہے---" عاشی کی ماں نے راجپوت کے کان میں پھسپوساتے ہوے کہا،اور دیکھتے ہی ہنومان سنگھ و کاجول ایک دوسرے کی آنکھوں میں حیرت سے دیکھنے لگ جاتے ہیں- اسے پہلے بھی پرنسپل میڈم کو دیکھکر دونوں کو ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوتا ہے لیکن پھر انکا چہرہ ڈھک جانے کی وجہ سے گمان حقققت میں تبدیل نہیں ہو پاتا-
دونوں چہروں نے دل اور دماغ پر شک و شبہات کے نے ناخن ضرور گڑاے-مننی کا یہاں داخلہ نہیں ہوا تب؟ لیکن اگر اتنے بڑے افسر کی سفارش میڈم جی نے ٹھکرا دی تو ہم غریبوں کا کیا ہوگا؟ ہم لاکھوں روپے ڈونیشن کے کہاں سے لاےنگے؟ -----؟ ' کاجول نے اپنے من کے شک کی گانٹھ کھولنے کی کوشش کی،"تمہیں نہیں لگتا کہ یہ پرنسپل میڈم ہماری وکیل میڈم سے کتنی ملتی جلتی ہیں؟
ہلچل تب مچی جب دو تین عورتیں فائلیں لئے ہوے چیمبر میں داخل ہویں-پھر پرنسپل میڈم اکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیئیں- دونوں خاتون نےفایلین میڈم کے سامنے پھیلا دین- انٹرویو شروع ہو چکا تھا-لیکن کاجول بنا پلکیں جھپکاے پرنسپل میڈم کو دیکھنے لگی تھی- لیڈی ٹیچرس میں سے ایک نے آواز دیکر حولدار ہنومان سنگھ سے اس سفارشی خط کے بارے میں بلاکر پوچھا، 'تمہیں پتہ ہے کہ اس اسکول میں سفارش نہیں چلتی ہے؟"
اس سوال پر پرنسپل میڈم نے ناراضگی جتاتے ہوے کہا،"تم رہنے دو.مین بات کررہی ہوں- بیٹی، بلاؤ....اور اس عورت کو بھی بلاؤ جو مجھے یکلخت دیکھے جا رہی ہے-کون ہے یہ" اپنا نام سن کر کاجل اپنی جگہ سےہڈبڈاکراٹھ کھڑی ہوتی ہے-
میڈم نے باری باری سے دونوں کو دیکھا، پھر فائل پر جھک گین- 'عجیب اتفاق ہے-اتنا کوئی کیسے مل سکتا ہے؟ایسی غضب کی سمیلیریٹی! اسکا نام تو کاجل نہیں تھا-وقت کے ساتھ کیا شکلیں بھی بدل جاتی ہیں؟ گردن اٹھاکر پرنسپل نے کاجل اور ہنومان سنگھ راجپوت کو عینک اتارکرغور سے دیکھا- یہ تمہاری بیٹی عاشی ہے، اسکا آشیرواد نام کیوں رکّھا ؟"
"میرے ساتھ میرے بڑوں کا آشیرواد رہا ہے میڈم جی! موسی جی، آئ بیبی اماں جی، بڑی مالکن، سبکے آشیرواد سے ہی مین اتنا پھڑ پای، اور اب میری بیٹی اس اسکول میں پڑھنے آئ ہے-"
"یہ میرے پتی ہیں-"
"اپن کو ہنومان سنگھ راجپوت بولتے-یہ اپن کی مننی....یہ میرا وائف...بولے تو! "
"پاپا!"عاشی نے ناراضگی جتاتے ہوے کان میں کہا،"یہ میرا اسکول ہے-"
پرنسپل چیمبر میں موجود سبھی لوگ ایک ساتھ ہنس پڑے-پرنسپل میڈم نے جبرن مسکراتے ہوے کہ،""ٹھیک ہے، میں سمجھ گی!"
"شروع سے یہ ایسے ہی بولتے ہیں-" کاجل نے جھینپتے ہوے صفائی دی،"بی ایس ایف میں حولدار ہیں- ان کی خواہش رہی ہے کہ بٹیا انگریزی اسکول میں پڑھے- آپکو دیکھکر مجھے برسوں پہلے اپنی وکیل میڈم مالکن کی یاد آ گی-" کاجل کا گلہ بھر آیا تھا- اسنے گیلی پلکیں ہینکی سے صاف کیں اور کہا، "بہت ملتی -جلتی شکلیں ہیں آپ دونوں کی-
پھر تصدیق کے بعد پرنسپل نے پوچھا،"عاشی بتاؤ! تمہارے ممی پاپا نے تمہارانام آشیرواد کیوں رکّھا؟"
"ممی کہتی ہے کہ.... اسکا.... مطلب ہوتا ہے..... سب کا پیار ملتے رہنا. سب لوگ مجھے پیار کرتے ہیں-سب...سب!"
"اچّھا، مین بھی کرونگی ---" پرنسپل میڈم نے کہا،"لیکن جب ہر کلاس میں فرسٹ آؤگی-تمہاری مما کا کیا نام ہے؟"
"مسز کاجل راجپوت-" توتلاتے ہوے عاشی نے کہا-"میرے بابا جی کا نام بابا جی ہے-"
میڈم پرنسپل نے فائل پرنظر گڈاکر کی جگہ دستخط کیے اور پھر سامنے بیٹھی ایک خاتون ٹیچر کے حوالے کر دیا-کاجول کو مخاطب کر میڈم پرسپل نے کہا،"میں نے تمہاری بیٹی کےایڈمیشن فارم پر ساین کر دیا ہے- جب تک یہ بچچی اس اسکول میں پڑھےگی، اسکا خرچ تمہیں نہیں دینا ہوگا- فائل میں مینے دیکھا ہے کہ جن ٹیچروں نے اس لڑکی سے بات کی ہے اورسوال پوچھے ہیں، انکے جواب بہت صحیح نکلے ہیں- اب اس پر تمہیں بہت محنت کرنا ہے-"
"مین پڑھاونگی میڈم جی، ٹینتھ پاس ہوں-" کاجول نے کہا،"بارھویں کا فارم بھرا ہے- ہمارے رٹایرڈ پولس کمشنر مالک بہت اچّھے آدمی ہیں- عاشی کے پاپا کو پولیس میں وہی لاے تھے-اور جب وہ پولیس ٹریننگ میں تھے تو صاب اور میم صاب کہتے تھے کہ اس بیچ پڑھ لے، پڑھی بکر نہیں جاتی ہے- ہم اب بھی انھیں کی کوٹھی میں رہتے ہیں- انھیں اکیلا چھوڑکر ہم اپنے سرکاری کوار ٹر میں کیسے جا سکتے ہیں؟ انکی مدد سے ہی تو مینے ہے اسکول پاس کیا ، میرے آدمی کو سرکاری نوکری ملی- اب بٹیا کو بہت پڑھونگی مین...."
" ٹھیک ہے ، جاو! کلاس کی باتیں کلاس ٹیچر بتاےگی- کیوں عاشی؟ دل لگاکر پڑھوگی نہ؟" اور جواب میں اسنے کہا،"مین آپ کی طرح ٹیچر بنونگی! سبکو پڑھاونگی...-
"واہ! لیکن اگر کسی نےتم سے کوی پہیلی پوچھ لی تو؟"
"پہیلی ہوگی، تب نہ!"
" مان لومین نے ہی پھیلی پوچھ لی تو؟"
"پوچھیے !"
"اوم...ہان !"سوچکر پرنسپل میڈم اور سبھی کو لطف آنے لگا تو وہ پوچھ بیٹھیں،"ایک جانور بہت نرالا،منہ ہے اسکا گنتی والا، سارے دن وہ بکتا رہتا، پھر بھی اسکا منہ نہیں تھکتا- بوجھو تو جانیں!"
عاشی سب طرف نگاہ دوڈاتی اور سوچتی رہی، پھر وہ ایک جگہ دیوار پر اٹک گی اور دھیمے سے ماں کے کان میں بولی..."گھڈی...! "
سنکر سب اچھل پڑے- پرنسپل نے کہا، "تم نے تو کمال کر دیا- تمنے کیسے جانا کہ یہ گھڈی ہے-
"گھڈی میں نمبر ہوتے ہیں نہ! ہر گھڈی ںا....میری ممما کی طرح ٹک ٹک، ٹک ٹک، ٹک ٹک، کرتی ہی رہتی ہے- چلتی رہتی ہےںا-تھکتی ہی نہیں-وہی توہے ! وہ دیکھئے سامنے دیوار پر، گھڈی ہی تو ہے ںا !"
کچھ سوچکر پرنسپل میڈم کی پلکیں نم ہوجاتی ہیں- انہوں نےاسے اٹھاکر اپنی گود میں بٹھا لیا- اپنا باریک کاجل اسکے کان کے پیچھے لگایا اور ماتھا چوم لیا-"اشور تمہیں کبھی کسی کی بری نظر نہ لگے- تم سبکا آشیرواد بن جاو....-گود سے اتارتے ہوے پرنسپل میڈم نے کاجول کو بتایا،'میں اسی بلڈنگ کیمپس میں رہتی ہوں-تم کبھی بھی فون کرکے آ سکتی ہو-عاشی کو ضرور لانا، ٹھیک ہیں نہ بیبی؟"
"تم نے ایک وکیل میڈم کا نام لیا تھا، کہاں ہیں وہ؟ "اچانک پرینسیپل میڈم نے یہ سوال کر سبکو چونکا دیا-پوری طاقت جٹا کر بیٹی کی ماں نے ڈوبتی ہوئ آواز میں جواب دیا-
"ایک بار ملنے گی تھی مین-شادی کے بعد-تب من میں تھا کہ شادی کی ہے توچلکر اپنی میڈم جی کا آشیرواد لے لیں ، لیکن گارڈ نے سوسایٹی کے اندر ہی نہیںجانے دیا، بولا وہ لوگ کوٹھی بیچکریہاں سے چلے گئے ہیں- مایوس ہوکر مین اپنے کمشنر صاب کے بنگلے کے سروینٹ کورٹر میں لوٹ گی- وہ بھی ریٹایر ہوکر بچچوں کے پاس امریکا گئے ہوے تھے- لوٹے تو مالکن اپنے ساتھ ہمیں یہاں لے آین اپنے سورگیہ پتہ جی کی کوٹھی میں- یہ مننی کے پاپا جیان دنون ٹریننگ پر تھے، اس واسطے-آج آپکو دیکھا تو ....."
"ہوں! اپنے بھای کی شادی میں ہمیں ضرور بلانا-" مادام نے پھسپھساتے ہوے کہا-
"آپ...آپ آیںگیں میڈم جی، سچچی؟"
"مچچی- مین بھی تو انسان ہوں- ہم سب لوگ ااینگے-مین، میری مممی، میرے پاپا جی اور سنوپی بھی!"
"سنوپی؟ اس نام کا تو میری میڈم جی کا بھی ایک ڈوگی تھا -آپکے یہاں بھی؟"
"ہاں! میرے ڈوگی کا نام بھی سنوپی ہے- ٹھیک ہے- اب تم لوگ جاو-عاشی! لو یہ چاکلیٹ-اپنی مما کو ہرسیٹر ڈے کے دن پیرینٹس میٹنگ میں ضرور لانا کاجل! اپنی آئ کا ذکر کیا تھا تم نے؟"
"وہ..وہ تو اپنے بیٹے دیوا کے ساتھ کانپور میں رہتی ہےمیڈم جی-آپ نہیں جانتیں دیوا کو، ہم سب اسے آج بھی پیٹی ہی کہتے ہیں-میرا یہ آدمی،اور مین ریل کی بوگیان دھوتی تھی-میرا آدمی، اور مین، پیٹی بچپن کے دوست ہیں-بہت منہنت کیا ہے میڈم جی-لوکو شیڈ میں بوگیاں دھوتی تھی-جھاڈو لگاتی تھی مین- یہ میرے پتی جی، فڈپاتھ پر مجمہ لگاتے تھے-پیٹی بوٹ پالش کیا کرتا تھا- لیکن میڈم جی،ٹیب بھی ہم سبنے پڑھنا نہیں چھوڑا-..." کاجل پرنسپل میڈم سے ایسے باتیں کرنے لگی تھی جیسے وہ میڈم کو برسوں سے جانتی ہو! اسنے ہنستے ہوے کہا،"آپکو مین کیا بتاؤں میڈم جی !"سامنے بیٹھی ٹیچر پہلو بدلکر ٹوکتی ہے،"میڈم نے تمھیں جانے کو کہا ہے-ان دنوں میڈم بہت بزی رہتی ہیں-ٹھیک ہے می نےعاشی کا داخلہ فارم فائل کر لیا ہے-..."
"صدف میڈم!" پیار سے جھڈکتے ہوے پرنسپل میڈم نے مسکراتے ہوے کہا،"بولنے دو! چلی جاےگی.....ہان ! تم کیا کہ رہی تھیں؟ "
"وہ ...مین کہ رہی تھی....اپنا پیٹی ہے نہ، اسکا نام پیٹی نہیں ہے، الله رککھے ہے-وہ بینک میں نوکر ہو گیا ہے-اب تو اسکی شادی ہونے والی ہے- اسی واسطے آئی میرے پاس آنے والی ہے- منہ بولی بیٹی ہوں مین اسکی-"باتیں کرتی کرتی وہ یکایک جذبات سے مغلوب ہوکر اپنے آنسو پوچھنے لگتی ہے- وہ ہم سبکی آیی ہے- اسکے بغیر تو شادی بھی نہیں ہو سکتی-آپ....یہ سب کاے کو پوچھ رہی ہین میڈم جی؟"
"ایسے ہی... اب جاؤ، باہر تمہیں بہت سے ادھورے کام کرنے ہیں ...یہ سلپ لو! اسے دکھاکر کاؤنٹر سے کتابیں لے لینا !"
کاجل ، عاشی اور حولدارہنومان سنگھ کے جاتے ہی پرنسپل میڈم اپنی کرسی پر پیچھے گردن ڈھلکاے پلکیں موندے بیٹھی ہلتی رہیں- پتہ نہیں کیوں آج انھیں پورا وجود ہلتا ہوا سا محسوس ہوا تھا- کاجل نے کچھ ہی پلوں میں گزشتہ زندگی کے سارے اوراق کھولکررکھ دے تھے-اب وہ اپنے ملول دل کے ساتھ اپنی کرسی پر دیر تک نہیں بیٹھ سکتی تھیں-انہوں نے سبکو چیمبر سے باہر چلے جانے کے لئے کہا- پھر وہ ٹیرس پر اکردور پہاڈوں کی چوٹییوں پرجمی برف کی چادروں کو دیکھنے لگی- دھوپ آنے جانے لگتی ہے-جب دھوپ برف پر پھیلتی ہے تو لگتا ہے کہ کاینات پہاڑوں کو چاندی کے فرش سے ڈھک دیتی ہے- شام کے دھندلکے نے جب سرد ہوا کے ساتھ پرنسپل میڈم کے جسم کوگا ڑھی دھندہلکی شام کی نرم اور گداز انگلیوں نے چھوالیا ہو- ایسے میں سموچے بدن میں ارتعاش سا پیدا ہو ںا لازمی عمل تھا-کانوں میں آواز گونجتی ہے،"آشیرواد نام کیوں رکّھا ہے؟"
میڈمجی، آئی ،وکیل میڈم اور مالکن میم صاب،کے آشیرواد سے میں پڑھی، اگے بڑھی -اور آج اپنی بیٹی کو لیکر اس اسکول میں آئی ہوں-آپکو دیکھکر....سامنے ہوں تو بہن لگیںگی-
آنکھوں پر سے عینک اتارکر پرنسپل میڈم شیشے صاف کرنے لگیں- اسی وقت موبائل پر کسی کا فون آ جاتا ہے- وہ اپنی کرسی پر آکر یکلخت فون کی گھنٹی کو بجتے دیکھتی رہتی ہیں -سن بھی نہ پا رہی ہوں- لگا جیسے کان سنن ہو گئے ہوں-پھر....؟
"ہیلو!"
کوئی جواب نہ پاکرمیڈم پرنسپل نے دیکھا، فون خود بہ خود خاموش ہو گیا-تفککر نے سوال کیا،"کون ہو سکتا ہے؟"
https://kathaanantah.blogspot.com/2023/12/urdu-novel-taheaab-dr-z-zaidi-ranjan_11.html
______________________________________________________
https://kathaanantah.blogspot.com/2023/12/urdu-novel-taheaab-dr-z-zaidi-ranjan. htm Dr. Z. A. Zaidi Ranjan Zaidi12:23

कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें